اسلام 24/7 : بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے جاپان کی بڑی تجارتی کمپنی ‘ماروبینی کارپوریشن’ کو ملک کے انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھاد اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، جبکہ کمپنی نے کرنافلی فرٹیلائزر کمپنی (کافکو) کا دوسرا پلانٹ لگانے کی تجویز میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ماروبینی کے صدر و چیف ایگزیکٹو ماسایوکی اوموتو کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے آج اتوار کو ڈھاکہ سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم کے ڈپٹی پریس سیکرٹری شہادت حسین سادھن کے مطابق ملاقات میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، کھاد اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور بنگلہ دیش و جاپان کے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے تاکہ ملک کی معاشی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
مزید پڑھیں : مصر اور انڈونیشیا کے درمیان متعدد معاہدے، 2030 تک تجارت 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف
بنگلہ دیشی اخبار ‘دی بزنس اسٹینڈرڈ’ اور ‘فنانشل ایکسپریس’ کے مطابق ملاقات میں آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے منصوبے اور اس میں ماروبینی کی ممکنہ سرمایہ کاری پر بھی غور کیا گیا۔ فریقین نے زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا، جبکہ انجینئرنگ گریجویٹس کو آئی ٹی اور سائبر سیکیورٹی کی مہارتیں دینے کے حکومتی منصوبے پر بھی بات ہوئی۔
وزیر اعظم نے پٹ سن کی مصنوعات میں ماروبینی کے ساتھ دیرینہ کاروباری تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ کمپنی کے نمائندوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ دونوں جانب سے امید ظاہر کی گئی کہ بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان اقتصادی شراکت داری معاہدے (ای پی اے) پر عمل درآمد سے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور شامہ عبید اسلام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے آئی ٹی ریحان آصف اسد بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ ماروبینی کھاد ساز کمپنی ‘کافکو’ میں پہلے سے سرمایہ کار ہے۔ ملاقات کی سرکاری تفصیلات میں دوسرے پلانٹ یا ڈیٹا سینٹر کے لیے سرمایہ کاری کی رقم، مقام یا حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔