مراکش کے تطوان فلم فیسٹیول میں تیونسی فلم ‘اغتراب’ کو سب سے بڑا اعزاز، غزہ پر دستاویزی فلم کو خصوصی تنویہ

تطوان فلم فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں فلم ‘اغتراب’ کو اعزاز دیے جانے کا لمحہ

اسلام 24/7 : مراکش میں منعقدہ 31ویں ‘تطوان بحیرۂ روم فلم فیسٹیول’ کا سب سے بڑا اعزاز تیونس کے ہدایت کار مہدی ہمیلی کی فلم ‘اغتراب’ نے جیت لیا ہے، جبکہ غزہ سے نکلنے والے فلسطینیوں کی گواہیوں پر مبنی دستاویزی فلم ‘من بقی حیاً’ (جو زندہ بچ گئے) کو جیوری نے خصوصی تعریفی سند دی۔ قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق فیسٹیول کی اختتامی تقریب ہفتے کی شام ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ‘اغتراب’ تیونس، لکسمبرگ، فرانس، قطر اور سعودی عرب کی مشترکہ پیشکش ہے، جو 2025 میں ریلیز ہوئی۔ فلم کی کہانی تیونس کی ایک بڑی اسٹیل فیکٹری کے مزدور محمد کے گرد گھومتی ہے، جو ایک حادثے میں اپنے دوست کو کھو دیتا ہے اور صحت یاب ہونے کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ لوہے کا ایک ٹکڑا اس کے سر میں رہ گیا ہے۔ وہ حقیقت جاننے اور بدلہ لینے کے لیے فیکٹری لوٹتا ہے، اور اس کا ذاتی بحران معاشرے کے مسائل سے جڑ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

‘من بقی حیاً’ سوئس ہدایت کار نکولا وادیموف نے بنائی ہے، جس میں غزہ سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے 9 فلسطینیوں نے ‘الجزیرہ’ کے الفاظ میں ’’اسرائیلی نسل کشی کی جنگ‘‘ کے دوران اپنے پیاروں کے بچھڑنے اور بے گھر ہونے کی داستانیں سنائی ہیں۔ عرب ثقافتی ویب سائٹ ‘فوشیا’ کے مطابق فلم بمباری کے پرانے مناظر دکھانے کے بجائے زندہ بچ جانے والوں کی یادداشتوں، زبانی گواہی اور ڈرائنگ کے ذریعے مقام کی تصویر دوبارہ بناتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے اگست میں اس فلم کو 2027 کے آسکر ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فلم کی نامزدگی کے لیے اپنی سرکاری انٹری کے طور پر منتخب کیا تھا۔

فیسٹیول کے فیچر فلم مقابلے میں 9 ممالک ترکی، اسپین، کروشیا، اٹلی، پرتگال، فرانس، فلسطین، تیونس اور مراکش کی 10 فلمیں شامل تھیں۔

واضح رہے کہ تطوان فلم فیسٹیول کا یہ ایڈیشن 3 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور اس میں فلموں کی نمائش کے ساتھ بحیرۂ روم کے خطے میں سینما کو درپیش مسائل اور تبدیلیوں پر سیمینار اور ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top