اسلام 24/7 : دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا اور مصر نے دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور 2030 تک باہمی تجارت 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے آج اتوار کو جکارتہ کے صدارتی محل ‘مرڈیکا پیلس’ میں انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو سے ملاقات کی۔
انڈونیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘انتارا’ کے مطابق دونوں صدور کی موجودگی میں اسٹریٹجک شراکت داری کے ایکشن پلان، سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ، شماریات اور ماہی گیری و سمندری امور سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر بات چیت آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاری اداروں کے مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کا بھی خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھیں : انڈونیشیا کے صدر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
انڈونیشی روزنامے ‘کومپاس’ کے مطابق ملاقات میں فلسطین کی صورتحال بات چیت پر حاوی رہی۔ دونوں رہنماؤں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی۔ صدر پرابوو نے کہا کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں امن کا واحد راستہ ہے، جبکہ صدر السیسی نے 4 جون 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا اور فلسطینیوں پر آبادیاتی تبدیلی مسلط کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا۔
دونوں ممالک نے دفاعی صنعت، مشترکہ فوجی تربیت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ صدر پرابوو نے مصر میں زیر تعلیم انڈونیشی طلبہ کی بڑی تعداد اور جامعہ الازہر کے ساتھ دیرینہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے مصر کی جانب سے طب، انجینئرنگ اور سائنس میں اضافی وظائف کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں انڈونیشیا کے وزیر مذہبی امور نصرالدین عمر بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ ‘کومپاس’ کے مطابق دونوں ممالک کی باہمی تجارت 2023 میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر اور 2024 میں 1.73 ارب ڈالر رہی۔ انڈونیشیا صدر السیسی کے ایشیائی دورے کا آخری پڑاؤ ہے، جس سے قبل وہ 6 سے 9 اکتوبر تک جنوبی کوریا اور 9 سے 10 اکتوبر تک ملائیشیا کا دورہ کر چکے ہیں۔ صدر السیسی کے مطابق مصر انڈونیشیا کی آزادی کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا اور دونوں کے سفارتی تعلقات 1947 میں قائم ہوئے۔