اسلام 24/7 : عراق کے قومی ریاستی قوتوں کے اتحاد کے سربراہ سید عمار الحکیم نے داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم ہونے کے بعد دہشت گرد گروہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ 10 اکتوبر کو بغداد میں قبائلی شیوخ اور معززین کے ایک اجتماع سے ملاقات کے دوران کہی۔
عراقی خبر رساں ایجنسی ‘آئی این اے’ کے مطابق الحکیم نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد جدید ٹیکنالوجی اور مخصوص ٹیموں کے ذریعے داعش کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا، اس لیے اس کے مشن کے خاتمے کے بعد عراق کو ایک نئے سکیورٹی چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی کے حالات کی واپسی روکی جائے اور دہشت گردی کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ دیا جائے، جس کے لیے مختلف طبقات کو اطمینان دلانے، سماجی انصاف اور قومی شراکت داری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ریاستی کنٹرول سے باہر موجود اسلحے کا مسئلہ حل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
مزید پڑھیں : عراق: حشد الشعبی کی بڑی کارروائی، داعش کے خفیہ ٹھکانے تباہ
عمار الحکیم نے بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے اختتام کو عراق کی صورتحال میں بہتری کا عالمی اعتراف قرار دیتے ہوئے قبائلی رہنماؤں کو ‘قومی خودمختاری کے دن’ کی مبارکباد دی اور اتحادی ممالک کے ساتھ باہمی رضامندی سے معاملات طے کرنے پر حکومت کے کردار کو سراہا۔
عراقی اخبار ‘الوسط’ کے مطابق الحکیم نے کہا کہ علاقائی حالات کے باعث عراق کی تیل کی پیداوار اور برآمدات میں کمی آئی اور ملک کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد حکومت نے سٹے بازوں کا مقابلہ کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے ڈالر کی شرح تبادلہ میں ردوبدل کیا۔ انہوں نے سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی شرح کے درمیان فرق ختم کرنے، غریب طبقات کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ میں علاقائی ترقی کے لیے پانچ ٹریلین دینار مختص کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ عراق کے مرکزی بینک نے 7 اکتوبر سے عوام کو ڈالر کی سرکاری فروخت کی شرح 1,320 دینار سے بڑھا کر 1,520 دینار فی ڈالر کر دی ہے۔ دوسری جانب داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کا فوجی مشن ستمبر کے آخر میں ختم ہوا، جس کے موقع پر 30 ستمبر کو عراق میں ‘قومی خودمختاری کا دن’ منایا گیا۔