اسلام 24/7 : شام نے نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) کے خلاف قومی پالیسی کی تیاری پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔ اتوار 11 اکتوبر کو دمشق میں شامی وزارت خارجہ و تارکین وطن کے زیر اہتمام ایک مشاورتی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ قومی اداروں کے نمائندوں اور شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر کے ماہرین نے شرکت کی۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ کے مطابق ورکشاپ میں ملک کے عوامی بیانیے، بین الاقوامی اصولوں اور معیارات، دیگر ممالک کے تجربات اور موجودہ قومی ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے ترجیحات، اداروں کے کردار، قومی سطح پر رابطہ کاری کے طریقہ کار اور پالیسی کے مسودے کی تیاری کے اگلے مراحل پر بھی غور کیا۔
مزید پڑھیں : شامی صدر کا دروز قبائل کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ، امریکی مداخلت سے جھڑپیں رک گئیں
شام کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی ایلچی کلاڈیو کوردونے نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر شامی معاشرے کے تمام طبقات کو بلا استثنا متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایکشن پلان کی تیاری کے لیے شامی حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے عرب دنیا میں اپنی نوعیت کا ممکنہ طور پر پہلا اقدام قرار دیا۔ شام میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ اور انسانی امور کی رابطہ کار نتالی فوستیئر نے کہا کہ یہ ورکشاپ سول سوسائٹی، میڈیا، مذہبی رہنماؤں اور مقامی برادریوں کو ساتھ ملا کر مربوط حکمت عملی بنانے کا موقع ہے۔
شامی وزارت خارجہ میں بین الاقوامی تنظیموں اور کانفرنسوں کے شعبے کے ڈائریکٹر سعد برود نے کہا کہ سابق حکومت نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک اقتدار برقرار رکھنے کے لیے فرقہ وارانہ، مذہبی اور علاقائی اختلافات کو استعمال کیا۔ ان کے بقول نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ ریاست کی تعمیر نو کا لازمی حصہ ہے، جس کے لیے واضح پالیسیوں، عوامی آگاہی مہمات، تعلیمی و ثقافتی پروگراموں، ذمہ دار میڈیا اور سماجی مکالمے کے ساتھ نگرانی اور قبل از وقت انتباہ کے نظام کی بھی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کے ساحلی علاقوں اور سویدا سمیت مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ‘سانا’ کے مطابق کوردونے نے حال ہی میں ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے کے شامی وزیر رائد الصالح سے ملاقات میں ملک کی بحالی، تعمیر نو اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے اقوام متحدہ کی ممکنہ معاونت پر بھی بات کی ہے۔