یوپی میں تیز آواز میں اذان پر مؤذن گرفتار، سیتاپور کی مسجد کو 7 دن میں ‘تجاوزات’ ہٹانے کا نوٹس

بجنور میں گرفتار مؤذن پولیس اہلکاروں کے ہمراہ

اسلام 24/7 : بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بجنور میں پولیس نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر تیز آواز میں اذان دینے کے الزام میں مؤذن محمد فیضان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی ہفتہ 10 اکتوبر کو اس وقت کی گئی جب ضلع کے اعلیٰ حکام نجیب آباد کوتوالی میں عوامی شکایات کی سماعت (سمادھان دیوس) کر رہے تھے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ‘اے بی پی لائیو’ اور ‘دی آبزرور پوسٹ’ کے مطابق اسی دوران قریبی مسجد سے اذان کی آواز آئی، جس پر ضلع مجسٹریٹ امیش پرتاپ سنگھ اور ایس پی کرشن کمار بشنوئی کی ہدایت پر پولیس نے مسجد کا لاؤڈ اسپیکر اتار کر ضبط کر لیا اور مؤذن کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ آواز مقررہ حد سے زیادہ تھی اور مؤذن کے خلاف نقص امن کا مقدمہ درج کیا گیا، تاہم رپورٹس میں یہ واضح نہیں کہ کارروائی سے پہلے آواز کی باقاعدہ پیمائش کی گئی تھی یا نہیں۔

مزید پڑھیں : نیتیش کمار کی جانب سے ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کا معاملہ، دہلی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مذمت کر دی

ادھر ریاست کے ضلع سیتاپور میں انتظامیہ نے تمبور کے علاقے میں واقع ضیاء العلوم مسجد کی انتظامیہ کو سرکاری اور گرام سبھا کی زمین پر مبینہ تجاوزات سات دن میں ہٹانے کا نوٹس دیا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ‘دی کراس بل’ کے مطابق یہ نوٹس 7 اکتوبر کو مسجد کے متولی مولانا شاہد علی کو موصول ہوا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں تعمیرات نہ ہٹانے پر انتظامیہ خود کارروائی کر کے اخراجات وصول کرے گی، حالانکہ اس زمین کا تنازع الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کا الزام ہے کہ ریاست میں مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیاں ایک منظم سلسلے کا حصہ ہیں۔ کانگریس کے قومی سیکرٹری شاہنواز عالم کا کہنا ہے کہ ’’یہ مذہبی عمارتیں 100 سال سے زیادہ پرانی ہیں، دوسری برادریوں کی عمارتیں بھی اس معیار پر پوری نہیں اتریں گی، لیکن صرف مسلم برادری سے وابستہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘ حکام ان کارروائیوں کو تجاوزات کے خلاف معمول کے اقدامات قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں میں اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے کے اندر 100 سال سے زائد پرانی ایک مسجد 5 ستمبر کو منہدم کی گئی، جبکہ مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت تاریخی شاہی مسجد کا ایک حصہ ستمبر کے آخر میں گرایا گیا، جس پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top