اسلام 24/7 : بحرین کے علمائے دین نے ایک مشترکہ بیان میں ملک کی وزارت انصاف، اسلامی امور و اوقاف کے حالیہ فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے بحرین کی اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شریعت کے کسی حکم سے متصادم کوئی بھی انسانی فیصلہ ایمان کی میزان میں ناقابل قبول ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں ‘حوزہ نیوز’ اور ‘ابنا’ کے مطابق ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں علما نے کہا کہ ان کا یہ مؤقف ’’نہ سیاسی دشمنی ہے اور نہ دنیاوی مفاد کی تلاش‘‘۔ انہوں نے اہل ایمان سے اپیل کی کہ وہ ان فیصلوں کے خلاف اپنے متحدہ مؤقف کے اظہار کے لیے کلمہ توحید ‘لا الہ الا اللہ’ کو اجتماعی شعار بنائیں اور اسے سوشل میڈیا سمیت تمام پرامن ذرائع سے عام کریں۔ علما نے بحرینی حکام سے ان فیصلوں پر نظرثانی اور انہیں واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
مزید پڑھیں : جمعیت العمل الاسلامی (امل) نے بحرین کے عوام سے ملک بھر احتجاج کی اپیل کردی
اس سے قبل 5 اکتوبر کو آیت اللہ عیسیٰ قاسم نے اپنے پیغام میں ان فیصلوں کو توحید کی میزان میں مسترد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کے سوا کسی کی قانون سازی نہیں، اور ان فیصلوں پر اہل ایمان کا جواب ایک ہی ہے، یعنی ‘لا الہ الا اللہ’۔ بحرینی اپوزیشن ویب سائٹ ‘مرآۃ البحرین’ کے مطابق ان فیصلوں میں سرفہرست وعظ، خطابت اور مذہبی انشاد کے لائسنس سے متعلق نیا وزارتی حکم ہے۔
بحرینی اخبار ‘البلاد’ کے مطابق وزیر انصاف نواف بن محمد المعاودہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نمبر 74 برائے 2026 کے تحت عبادت گاہوں، ماتم کدوں اور دیگر مقامات پر وعظ و ارشاد، خطابت اور مذہبی انشاد کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے کردار کا سرٹیفکیٹ بھی درکار ہوگا، اور متعلقہ افراد کو ایک ماہ میں اپنی حیثیت قانون کے مطابق کرنی ہوگی۔ وزارت کے مطابق اس کا مقصد اعتدال کا فروغ اور عبادت گاہوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے بچانا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئی تھیں۔
واضح رہے کہ ‘مرآۃ البحرین’ کا مؤقف ہے کہ وزارت داخلہ سے کردار کا سرٹیفکیٹ لینے کی شرط دراصل خطبا کے لیے پیشگی سکیورٹی منظوری کے مترادف ہے اور یہ حکم صرف لائسنس تک محدود نہیں بلکہ خطاب کے مواد کی نگرانی اور تجزیے کا اختیار بھی دیتا ہے۔