سعودی عرب میں رواں سال سیاسی مقدمات میں 10 افراد کو سزائے موت دی گئی، انسانی حقوق تنظیم ‘سند’ کا دعویٰ

ریاض شہر کا رات کا منظر

اسلام 24/7 : سعودی انسانی حقوق تنظیم ‘سند’ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی حکام نے 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران 10 ایسے افراد کو سزائے موت دی جن کے مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے، جبکہ رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پر عملدرآمد کی مجموعی تعداد 171 سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ رپورٹ ہفتہ 10 اکتوبر کو جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ تمام 10 سزائیں ‘تعزیر’ یعنی قاضی کی صوابدید پر دی گئیں اور ان میں دہشت گردی اور کسی ‘غیر ملکی دہشت گرد تنظیم’ میں شمولیت جیسے الزامات شامل تھے، تاہم سرکاری بیانات میں نہ تنظیم کا نام بتایا گیا اور نہ ہی شواہد پیش کیے گئے۔ ‘سند’ کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں 356 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی جن میں 45 سیاسی نوعیت کے مقدمات تھے، جو اس کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب اور یو اے ای پاکستانیوں کیلئے جیل، 16 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی ہونے کا انکشاف

رپورٹ میں علی السبیتی کا مقدمہ نمایاں ہے جنہیں ان کے چچا مصطفیٰ السبیتی کے ہمراہ 9 اپریل 2026 کو مشرقی صوبے میں سزائے موت دی گئی۔ ‘سند’ کا کہنا ہے کہ علی کو 2017 میں 18 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا، ان پر عائد الزامات اس دور کے تھے جب وہ نابالغ تھے، اور انہوں نے دوران مقدمہ تشدد اور دباؤ میں اعترافی بیانات لیے جانے کی شکایت کی تھی۔

دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ نے اپریل میں جاری بیان میں کہا تھا کہ دونوں افراد ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت، دھماکا خیز مواد کی تیاری، اسلحہ رکھنے، سکیورٹی اہلکاروں کے قتل اور سکیورٹی مراکز پر فائرنگ جیسے جرائم میں ملوث تھے۔ وزارت کے مطابق عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر سزا سنائی، اپیل کورٹ اور سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھا اور شاہی حکم کے بعد اس پر عملدرآمد کیا گیا۔

واضح رہے کہ ‘سند’ نے سعودی حکام سے سیاسی نوعیت کی سزائے موت روکنے، نابالغی کے دور کے جرائم پر دی گئی سزاؤں پر نظرثانی، تشدد کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور دہشت گردی کی تعریف محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق سعودی عرب بچوں کے حقوق کے کنونشن اور تشدد کے خلاف کنونشن کا فریق ہے، جو نابالغی کے جرائم پر سزائے موت اور جبری اعترافات کے استعمال کی ممانعت کرتے ہیں، جبکہ سعودی حکومت ان سزاؤں کو شرعی قانون کے مطابق اور امن و امان کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top