اسلام 24/7 : افغانستان کی طالبان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار شہاب الدین دلاور نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے تعلیم پر عائد پابندی طالبان سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کے حکم کے تحت تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آج 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں لڑکیوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
افغان خبر رساں ادارے ‘دید پریس’ کے مطابق طالبان کے زیر انتظام افغان ہلال احمر کے سربراہ شہاب الدین دلاور نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دوحہ معاہدے میں خواتین کا معاملہ شامل نہیں تھا۔ ادارے کے مطابق ان کا یہ مؤقف دوحہ مذاکرات کے دوران ان کے سابقہ بیان سے متصادم ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کو ڈاکٹریٹ تک تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے اور طالبان ان حقوق کے پابند رہیں گے۔
مزید پڑھیں : آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا، اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ نافذ
افغان نیوز ویب سائٹ ‘خامہ پریس’ کے مطابق یونیسکو کا اندازہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ یونیسیف نے اگست میں بتایا تھا کہ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے 26 لاکھ سے زائد لڑکیوں کو ثانوی اسکول جانے سے روکا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے عملاً بند ہیں۔
اس سال لڑکیوں کے عالمی دن کا موضوع کم عمری کی شادی کا خاتمہ ہے، اور ‘خامہ پریس’ کے مطابق اسکولوں سے باہر رہنے والی افغان لڑکیوں کو کم عمری کی شادی، چائلڈ لیبر اور تشدد کے بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 5 اکتوبر کو طالبان حکومت کے وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے وارنٹ گرفتاری منظر عام پر لائے تھے، جن پر خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کے ذریعے صنفی بنیاد پر ظلم کا الزام ہے۔ پاکستانی روزنامے ‘ڈان’ کے مطابق یہ وارنٹ ستمبر 2025 میں جاری کیے گئے تھے مگر اب تک خفیہ رکھے گئے تھے۔