اسلام 24/7 : اسرائیلی قابض افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد گھروں پر چھاپے مار کر صحافیوں سمیت کئی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اتوار کی رات اور پیر کی صبح کی جانے والی ان کارروائیوں کے دوران قابض فورسز نے 10 شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں نابلس کے جنوب میں واقع عصیرہ القبلیہ سے تعلق رکھنے والے صحافی سامی الشامی بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جنین کے جنوب مغرب میں واقع قصبے عرابہ سے ایک اور خاتون صحافی رجاء معروف جبر کو بھی ان کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے۔ صحافی ہمیشہ سے ہی اسرائیلی فوج کے نشانے پر رہے ہیں اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے اب تک 37 سے زائد فلسطینی صحافی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
مزید پڑھیں : ایران ملکی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کرے گا، ایرانی وزیر خارجہ
غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق، اس جنگ کے آغاز سے اب تک 26 خواتین سمیت 262 صحافی اور میڈیا ورکرز شہید جبکہ 433 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
رات گئے کی جانے والی ان چھاپہ مار کارروائیوں میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے مختلف حصوں سے ایک خاتون کارکن اور تین بچوں سمیت مزید آٹھ شہریوں کو بھی اغوا کیا۔ اس کے علاوہ قابض فورسز نے شمالی رام اللہ میں واقع بیرزیت یونیورسٹی کے کیمپس پر بھی دھاوا بولا۔
اسرائیلی فوجی ایک فوجی بلڈوزر کے ہمراہ یونیورسٹی کی عمارت میں داخل ہوئے اور وہاں سے ایک سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لینے کے بعد شہید طلباء کی یادگار کو مسمار کر دیا۔ یہ یادگار گزشتہ برسوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے بیرزیت یونیورسٹی کے طلباء کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔
قیدیوں کے امور کی نگرانی کرنے والی فلسطینی تنظیموں کے مطابق، اس وقت تقریباً 9,350 فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں میں ان کی مرضی کے خلاف قید رکھا گیا ہے، جن میں 90 خواتین اور 350 بچے بھی شامل ہیں۔