اسلام 24/7 : یمنی مسلح افواج کے ایک سینیئر فوجی ذریعے نے سعودی عرب میں کام کرنے والے ملازمین، مزدوروں اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مملکت بھر میں تیل کی اہم تنصیبات سے دور رہیں، کیونکہ یہ تنصیبات اب یمنی فوجی کارروائیوں کے ممکنہ اہداف ہیں۔ ذریعے نے سعودی تیل کمپنی ‘آرامکو’ کے حصص داروں سے بھی فوری طور پر اپنا سرمایہ نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یمنی خبر رساں ایجنسی ‘سبا’ کو اتوار کو دیے گئے بیان میں فوجی ذریعے نے کہا کہ سعودی عرب کی فضائی حدود اب فضائی سفر اور ہوابازی کی سرگرمیوں کے لیے محفوظ نہیں رہیں، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضا کے۔ یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے مطابق ذریعے نے کہا: ’’جس نے پہلے خبردار کر دیا، اس نے حجت تمام کر دی‘‘۔
مزید پڑھیں : یمنی فوج کا ظہران اور ریاض میں آرامکو تنصیبات اور شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملہ، سعودی وزارت توانائی نے آگ کی تصدیق کر دی
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق یمنی فوجی ذریعے نے آرامکو کے حصص داروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’’بہت دیر ہونے سے پہلے‘‘ اپنے حصص فروخت کر دیں تاکہ فوجی صورتحال میں مزید شدت آنے کی صورت میں بھاری نقصان سے بچ سکیں۔ ‘المسیرہ’ کے مطابق صنعاء پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ’’محاصرے کے بدلے محاصرہ اور کشیدگی کے بدلے کشیدگی‘‘ کے اصول کے تحت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ترک خبر رساں ادارے ‘اناطولیہ’ کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے اتوار کو کہا کہ ایک ’’دشمن پروجیکٹائل‘‘ جنوب مغربی شہر نجران میں گرا، جس سے چھ افراد زخمی اور تین گھروں اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم سعودی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملہ کس نے کیا۔ ‘المنار’ نے سعودی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ابہا میں بھی خطرے سے خبردار کرنے کا الرٹ جاری کیا گیا۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے منامہ میں ہونے والے اجلاس کے اعلامیے میں سعودی عرب پر یمنی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ‘مہر’ کے مطابق اعلامیے میں انصاراللہ پر اسلحے کی پابندیاں سخت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، جبکہ ‘المسیرہ’ کے مطابق آرامکو کی تنصیبات ملکی معیشت اور عالمی توانائی منڈی میں اپنی اہمیت کے باعث اس محاذ آرائی کا مرکز بن چکی ہیں۔