ایران دباؤ میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، ٹھوس ضمانتوں کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں، او آئی سی اجلاس میں عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بغداد میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں

اسلام 24/7 : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جبر، دھمکی اور دباؤ قبول نہیں کرتا اور دباؤ میں اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، تاہم باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کی جانب سے جاری کردہ تقریر کے متن کے مطابق عراقچی نے کہا کہ امریکا نے سفارت کاری کے بجائے جارحیت، دھمکیوں، قاتلانہ حملوں اور معاشی جنگ کا راستہ چنا، جس میں سینکڑوں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 5 ہزار افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیلی حکومت نے ایران کے رہبر اور دیگر اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں کو قتل کیا، جبکہ میناب میں 160 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کا قتل، لامرد اسٹیڈیم پر کلسٹر بم حملہ اور قشم میں پانی صاف کرنے والے یونٹ پر بمباری ان جرائم کی چند دستاویزی مثالیں ہیں۔

مزید پڑھیں : ایران کو جارح کہنا مظلوم اور جارح کو الٹ دینے کی بھونڈی کوشش ہے، برطانیہ اپنا تباہ کن کردار نہیں چھپا سکتا، بقائی

آبنائے ہرمز کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ 28 فروری 2026 تک یہ آبی گزرگاہ کھلی تھی اور اس کے بعد جہاز رانی میں عدم تحفظ امریکا اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں اور امریکی ناکہ بندی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’کسی ملک پر بمباری کر کے، اسے نابود کرنے کی دھمکی دے کر اور اس کی ناکہ بندی کر کے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ جہاز رانی کی سلامتی معمول پر آ جائے گی‘‘۔ عراقچی نے بتایا کہ ایران نے قطر کے ذریعے سات روزہ ٹھوس منصوبہ پہنچایا ہے جس کے تحت ضروری شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز سات دن میں کھولی جا سکتی ہے، اور اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی ثالثی اور قطر کی حمایت سے ایران اور امریکا نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد دو ہفتوں میں جہاز رانی جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 60 فیصد تک بحال ہو گئی تھی، مگر بعد کے یکطرفہ امریکی اقدامات اور فوجی کارروائیوں نے اس پر عمل درآمد روک دیا۔

فلسطین کو عالم اسلام کا مرکزی مسئلہ قرار دیتے ہوئے عراقچی نے غزہ میں قتل عام اور محاصرہ ختم کرانے کے لیے او آئی سی سے عملی اور مربوط اقدام کا مطالبہ کیا۔ یمن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران یمن اور سعودی عرب دونوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے، اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور تہران فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ امن روڈ میپ کی بنیاد پر مکالمے میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top