اسلام 24/7 : یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ مدینہ منورہ کی جانب حملہ کیا گیا، اور واضح کیا ہے کہ جمعرات کو یمنی افواج نے سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی۔
یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ کے حوالے سے لبنانی ٹی وی ‘المنار’ اور ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بیان میں کہا: ’’یمنی مسلح افواج تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے آج سعودی سرزمین کی جانب کوئی نشانہ بنانے کی کارروائی نہیں کی، اور سعودی دشمن کا مدینہ منورہ کی جانب حملے کا دعویٰ بہتانِ عظیم ہے‘‘۔
مزید پڑھیں : یمنی فوج کا ظہران اور ریاض میں آرامکو تنصیبات اور شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملہ، سعودی وزارت توانائی نے آگ کی تصدیق کر دی
‘المنار’ کے مطابق یمنی مسلح افواج بارہا اعلان کر چکی ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ان کی کارروائیوں سے مستثنیٰ ہیں۔
واضح رہے کہ ‘المسیرہ’ کے مطابق یمنی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سعودی عرب نے صنعا اور تعز، مارب، لحج اور عمران کے صوبوں کے ساتھ آبنائے باب المندب میں جزیرہ میون پر 42 فضائی اور میزائل حملے کیے، اور موجودہ کشیدگی کے آغاز سے ایسے حملوں کی تعداد 2,323 ہو گئی ہے۔ یمنی فوج نے خبردار کیا کہ جزیرہ میون پر حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور اس کی ذمہ داری سعودی عرب پر ہوگی۔