صنعا میں یمنی آئل کمپنی کے مرکز پر سعودی حملہ کھلا جنگی جرم ہے، ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، عمر البخیتی

یمن کی صنعا حکومت کے ترجمان عمر البخیتی

اسلام 24/7 : یمن کی صنعا حکومت کے ترجمان عمر البخیتی نے صنعا میں یمنی آئل کمپنی کے مرکز پر سعودی فضائی حملے کو ’’کھلا جنگی جرم‘‘ قرار دیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کے بارے میں فکر کی ضرورت نہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ نے لبنانی ٹی وی ‘المیادین’ کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے منگل کی شام صنعا کے مغرب میں ضلع بنی مطر کے علاقے الصباحہ میں واقع یمنی آئل کمپنی کے مرکز کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ عمر البخیتی کے مطابق نشانہ بنائی گئی تنصیبات خالی تھیں۔

مزید پڑھیں : یمن پر 24 گھنٹوں میں 119 سعودی حملے، تعز میں لڑکیوں کے اسکول اور طبی مرکز پر بمباری؛ 3 ستمبر سے 107 شہری جاں بحق

یمنی ترجمان نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی مستحکم ہے اور یہ طویل عرصے تک شہریوں کی ضروریات پوری کرے گی۔

اس حملے کے جواب میں یمنی مسلح افواج نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ، ریاض میں آرامکو ریفائنری اور ظہران میں کمپنی کی تیل تنصیبات کو خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا، جس کے بعد ان مقامات پر حملوں کا اعلان کیا گیا۔

یمنی وزارت صحت کے مطابق 3 ستمبر سے 12 اکتوبر تک سعودی حملوں میں 385 افراد نشانہ بنے، جن میں 107 جاں بحق اور 278 زخمی ہوئے، اور ان میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا ہے کہ صنعا اس وقت تک سعودی عرب کا مقابلہ جاری رکھے گا جب تک وہ جنگ اور محاصرہ ختم کر کے غیر ملکی افواج کو واپس نہیں بلاتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top