یمنی فوج کا ظہران اور ریاض میں آرامکو تنصیبات اور شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملہ، سعودی وزارت توانائی نے آگ کی تصدیق کر دی

یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع آرامکو پر حملے کا بیان پڑھتے ہوئے

اسلام 24/7 : یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ظہران اور ریاض میں آرامکو کی تنصیبات اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزارت توانائی نے تصدیق کی ہے کہ ظہران میں آرامکو کی انتظامی عمارت کو منگل کی شام نشانہ بنایا گیا جس سے محدود آگ لگی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ‘ابنا’ کے مطابق یمنی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی صنعا اور دیگر صوبوں پر سعودی جارحیت کے جواب میں کی گئی، جس میں ان کے بقول کشیدگی کے دوران 2,281 فضائی اور میزائل حملے کیے گئے۔ بیان کے مطابق بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون استعمال ہوئے اور اہداف پر تباہی اور آگ لگی۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں : یمنی فضائی دفاع نے صعدہ پر سعودی ‘ونگ لونگ 2’ ڈرون مار گرایا، ریاض ایئرپورٹ پر نئے میزائل حملے کا دعویٰ

لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے بیان میں کہا کہ حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سعودی حکام نے ملک بھر میں کئی میزائل روکنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ‘ایس پی اے’ نے شہری دفاع کے حوالے سے ریاض میں ایک کروز میزائل روکنے کی خبر دی۔ سعودی اتحاد نے ریاض صوبے کے علاقے الخرج اور مشرقی صوبے کے علاقے حرض پر بھی میزائل روکنے کا دعویٰ کیا، اور ریاض میں خطرے کے سائرن بجتے رہے۔

بدھ کو یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر مزید حملے کیے جائیں گے۔ اس سے پہلے یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے خبر رساں ادارے ‘سبا’ سے گفتگو میں کہا کہ صنعا اس وقت تک سعودی عرب کا مقابلہ جاری رکھے گا جب تک وہ جنگ اور محاصرہ ختم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: ’’یمن پر حملے میں شریک فریقوں میں عقل مند وہ ہے جو دیر ہونے سے پہلے یہاں سے نکلنے میں پہل کرے‘‘۔

واضح رہے کہ یہ حملے منگل کی شام صنعا میں یمنی آئل کمپنی کے مرکز پر سعودی فضائی حملے کے بعد ہوئے، جس کے بعد یمنی فوج نے شاہ خالد ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات کو خالی کرنے کا انتباہ جاری کیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top