اسلام 24/7 : آسٹریلیا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز (اے ایف آئی سی) نے میلبرن کے کمیونٹی مرکز ‘مائی سینٹر’ کو پرتشدد انتہا پسندی سے جوڑنے والی میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم نے اتوار 11 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس مرکز نے کبھی کسی تشدد یا غیر قانونی سرگرمی کی حمایت، سہولت کاری یا اسے برداشت کیا ہو۔
اے ایف آئی سی کے مطابق ‘مائی سینٹر’ نوجوانوں کی سرگرمیوں، خاندانوں کی معاونت، کاؤنسلنگ اور متوازن کمیونٹی پیغام رسانی کے لیے جانا جانے والا معتبر ادارہ ہے۔ تنظیم نے ‘فلائی دبئی’ واقعے سے متعلق تفتیش کے حالات اور آزادانہ تصدیق کے فقدان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جبری یا غیر مصدقہ بیانات کو قابل اعتماد ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں : کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف قائم دفتر بند
اے ایف آئی سی کے صدر ڈاکٹر راتب جنید نے کہا: ’’جن کمیونٹی اداروں نے برسوں نوجوانوں اور خاندانوں کی مدد کی ہے، ان کی ساکھ کو قیاس آرائیوں یا محض تعلق کی بنیاد پر الزام تراشی سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ سنگین الزامات کی بنیاد معتبر اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد پر ہونی چاہیے، مفروضوں پر نہیں۔‘‘ تنظیم کے مطابق آسٹریلیا کی مسلم برادری انتہا پسندانہ نظریات کو بھرپور طور پر مسترد کرتی ہے۔
اماراتی اخبار ‘گلف نیوز’ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن نے بتایا ہے کہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں کپتان پر حملے کے الزام میں گرفتار عمانی معاون پائلٹ نے دوران تفتیش کہا کہ میلبرن میں تعلیم کے دوران اس کی ‘مائی سینٹر’ سے وابستہ افراد سے واقفیت ہوئی۔ اماراتی حکام نے اس پر طیارے کو تل ابیب کے ہوائی اڈے پر حملے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے، تاہم ‘گلف نیوز’ کے مطابق شائع شدہ نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ مرکز یا اس سے وابستہ افراد کسی سازش میں ملوث تھے، اور ملزم نے خود اکیلے کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
واضح رہے کہ 1964 میں قائم ہونے والی اے ایف آئی سی آسٹریلیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے۔ رواں ہفتے سڈنی کی سب سے بڑی مسجد چلانے والی لبنانی مسلم ایسوسی ایشن نے ‘ون نیشن’ پارٹی کی جانب سے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر ملک گیر پابندی کی تجویز کو مسلم طالبات کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا تھا۔