صومالیہ میں پہلی قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا، 2030 تک علاج کی سہولیات بڑھانے کا منصوبہ

موغادیشو میں قومی ذہنی صحت پالیسی کے اجرا کی تقریب

اسلام 24/7 : صومالیہ نے ذہنی صحت سے متعلق اپنی پہلی قومی پالیسی جاری کر دی ہے، جو 2026 سے 2030 تک ملک میں ذہنی صحت کی خدمات کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور توسیع کی رہنمائی کرے گی۔ وزیر صحت و سماجی بہبود ڈاکٹر علی حاجی آدن نے ہفتہ 10 اکتوبر کو دارالحکومت موغادیشو میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پالیسی کا باضابطہ اجرا کیا۔

صومالیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سونا’ کے مطابق تقریب میں وزارت صحت کی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فرتون شریف محمد، وزارت میں ذہنی صحت کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر سینب احمد نور، قومی ہیلتھ انشورنس ایجنسی کے حکام اور ہسپتالوں، جامعات اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے عوامی آگاہی بڑھانے، معیاری علاج تک رسائی بہتر بنانے اور ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے ساتھ امتیازی سلوک اور سماجی بدنامی کے خاتمے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں : نیتن یاہو کو منہ کی کھانی پڑی؛ صومالی لینڈ نے اسرائیل کو ہری جھنڈی دکھا دی

صومالی ویب سائٹ ‘ہیران آن لائن’ کے مطابق نئی پالیسی ذہنی صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی، عوامی شعور اور مریضوں کے حقوق و وقار کے تحفظ کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ حکام نے سرکاری اداروں، ہسپتالوں، جامعات، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی برادریوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سب کے لیے قابل رسائی خدمات یقینی بنائی جا سکیں۔

‘ہیران آن لائن’ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سابقہ جائزوں میں نشاندہی کی گئی تھی کہ صومالیہ کے پاس ذہنی صحت کی کوئی قومی پالیسی یا منصوبہ موجود نہیں، جبکہ تربیت یافتہ ماہرین کی شدید کمی اور کمیونٹی سطح کی خدمات کا فقدان بھی بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے سفارش کی تھی کہ ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کے نظام میں شامل کیا جائے اور غیر ماہر طبی عملے کو ابتدائی معاونت کی تربیت دی جائے۔

واضح رہے کہ صومالیہ میں ذہنی صحت کے مسائل دہائیوں پر محیط مسلح تنازع، نقل مکانی، غربت اور بار بار کی خشک سالی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ملک اس وقت ‘دیر’ بارشوں کے موسم میں ال نینو سے جڑے سیلاب کے خطرے کا بھی سامنا کر رہا ہے؛ ‘ہیران آن لائن’ کے مطابق جوہر کے مقام پر دریائے شبیلی کی سطح ایک ہفتے میں 2.48 میٹر سے بڑھ کر 4.70 میٹر ہو گئی ہے، جو درمیانے درجے کے سیلابی خطرے کی حد سے صرف 30 سینٹی میٹر کم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top