سوڈان: بلیو نائل میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ کے قریب ڈرون حملہ، 31 شہری جاں بحق

سوڈان میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ اور انسانی امور کی رابطہ کار ڈینس براؤن (فائل فوٹو)

اسلام 24/7 : سوڈان میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ اور انسانی امور کی رابطہ کار ڈینس براؤن نے ریاست بلیو نائل (النیل الازرق) کے علاقے ود الماحی میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ کے قریب ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کم از کم 31 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

سوڈانی نیوز ویب سائٹ ‘سوڈان ناؤ’ کے مطابق حملہ جمعہ 9 اکتوبر کو ابو شندی کے قریب ہوا، جہاں جیسان اور الکرمک کے علاقوں میں حالیہ لڑائی سے جان بچا کر آنے والے خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ ڈینس براؤن نے 10 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ درجنوں دیگر شہری زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’ان بے مقصد ہلاکتوں کی مذمت ضروری ہے، لیکن بین الاقوامی انسانی قانون کی اس کھلی خلاف ورزی کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔‘‘

مزید پڑھیں : سوڈان میں انسانی بحران شدید، تین دن میں 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر

اقوام متحدہ کے بیان میں حملہ آور فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم مقامی تنظیموں ‘بلیو نائل سول سوسائٹی انیشی ایٹو’ اور ‘سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک’ نے اس کی ذمہ داری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) پر عائد کی ہے، جبکہ سوڈانی ویب سائٹ ‘نبأ السودان’ نے بھی اتوار کو حملے کو آر ایس ایف سے منسوب کیا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ بلیو نائل کے گورنر احمد العمدہ بادی نے بھی بے گھر افراد کی پناہ گاہ کو نشانہ بنائے جانے اور درجنوں ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ حملہ سوڈانی مسلح افواج کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوا، جو گزشتہ ہفتے بھی حملوں کی زد میں رہا۔ ڈینس براؤن نے یاد دلایا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل شمالی کردفان کے شہر الابیض میں بھی بے گھر افراد کی ایک پناہ گاہ پر اسی طرح کے حملے میں بچوں سمیت عام شہری مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اپریل 2023 سے جاری جنگ نے سوڈان کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل کر دیا ہے۔ ‘سوڈان ناؤ’ میں شائع خوراک کے تحفظ سے متعلق ‘فیوز نیٹ’ کی تازہ رپورٹ کے مطابق قحط کا خطرہ جنوبی دارفور کے بعض حصوں تک پھیل رہا ہے، ملک کے تقریباً 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال ہیں اور 2026 کے انسانی امدادی منصوبے کے لیے درکار رقم کا صرف 41 فیصد فراہم ہو سکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top