اسلام 24/7 : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگوں کے دوران ماحول کو پہنچنے والی تباہی کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو محض تشویش ظاہر کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اتوار کو تہران میں ‘ماحول کشی (ایکوسائیڈ): خاموش جنگی جرم’ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں ‘مہر’ اور ‘تسنیم’ کے مطابق عراقچی کا کہنا تھا کہ پانی، مٹی، فضا، جنگلات، زرعی زمین اور قدرتی مساکن پر حملوں کے اثرات جنگ ختم ہونے کے بعد بھی برسوں بلکہ دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے غزہ، لبنان اور ایران کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے غزہ میں غیر معمولی ماحولیاتی نقصان کی نشاندہی کی ہے، جبکہ لبنان میں جنگلات، زرعی زمینیں اور دسیوں ہزار زیتون کے درخت متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیں : ایران ملکی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کرے گا، ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے مارچ 2026 کے یو این ای پی جائزے کا ذکر کیا، جس کے مطابق تہران سمیت شہری علاقوں میں اور ان کے اطراف تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور آگ لگنے سے مضر مرکبات خارج ہوئے۔ ان کے بقول یہ آلودگی فضا سے مٹی اور آبی وسائل میں منتقل ہو کر غذائی زنجیر تک پہنچ سکتی ہے۔
عراقچی نے بین الاقوامی تعاون کے لیے تین ترجیحات تجویز کیں، جن میں شدید ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچہ اور واضح معیارات، مسلح تنازعات سے ہونے والے نقصانات کی دستاویز بندی کے لیے غیر جانبدار سائنسی نظام، اور تباہی کی روک تھام اور متاثرہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی کے لیے علاقائی و عالمی تعاون شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ‘ماحول کشی’ کو الگ بین الاقوامی جرم تسلیم کرنے سے متعلق قانونی بحث کی حمایت کرتا ہے اور اس کے لیے اپنی سائنسی، قانونی اور سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لانے کو تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ماحولیاتی تحفظ میں دوہرے معیار اور اسے سیاسی رنگ دینے کے خلاف خبردار کیا اور اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 31 کو فوجی حملوں کے ماحولیاتی اثرات اجاگر کرنے کا موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہمیں جارحین کو ان کے مجرمانہ اقدامات کی ذمہ داری سے بچنے نہیں دینا چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ ایران رواں سال فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کی زد میں ہے، جس کے دوران تیل، ریفائنری اور توانائی کی تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔ تہران ان حملوں سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کا معاملہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔