ناوی پلے کے لیے نوبل انعام کا انتخاب عالمی جرائم کے احتساب کی علامت ہے، حماس

حماس

اسلام 24/7 : فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے انسانی حقوق کی نامور علمبردار ناوی پلے (Navi Pillay) کو نوبل انعام کے لیے منتخب کیے جانے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے ایک باضابطہ بیان میں حماس نے کہا ہے کہ اس مایہ ناز بین الاقوامی اعزاز کے لیے ان کا انتخاب اس بات کا واضح عکاس ہے کہ جنگی جرائم کے مرتکب عناصر کو عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرانے کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حماس نے ستمبر 2025 میں ناوی پلے کی سربراہی میں قائم ہونے والے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹوں کا خصوصی حوالہ دیا۔ تحریک نے واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی سے متعلق اس کمیشن کے حتمی نتائج نے قابض صیہونی افواج کی انسانیت سوز اور تباہ کن کارروائیوں کا عالمی سطح پر پردہ چاک کر کے حقائق دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

مزید پڑھیں : فرانسیسی صدر کا دہرا معیار: اپنا ایٹمی میزائل آزادی کی ضمانت، تو ایران کا پُرامن جوہری پروگرام خطرہ کیوں؟ اسماعیل بقائی

بیان میں حماس نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیشن کی جانب سے پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کو فوری قانونی کارروائیوں میں تبدیل کریں اور جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیلی حکام کو بلاتاخیر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ تحریک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر مجرموں کو سزا سے استثنیٰ (Impunity) دینے کی غیر منصفانہ پالیسی کا اب ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ ناوی پلے کو یہ بین الاقوامی اعزاز ایک ایسے نازک وقت میں دیا جا رہا ہے جب امریکا، اسرائیلی قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے اور اس پر شدید دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top