فرانسیسی صدر کا دہرا معیار: اپنا ایٹمی میزائل آزادی کی ضمانت، تو ایران کا پُرامن جوہری پروگرام خطرہ کیوں؟ اسماعیل بقائی

اسماعیل بقائی

اسلام 24/7 : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوہری پالیسی کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دہرے معیار اور منافقت پر کڑی تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک سخت بیان میں انہوں نے میکرون کے اس حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں فرانسیسی صدر نے جوہری وارہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘آزاد رہنے کے لیے خوف پیدا کرنا اور خوف پیدا کرنے کے لیے طاقتور ہونا ضروری ہے’۔

بقائی نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اگر فرانس کی سلامتی اور آزادی کی ضمانت کے لیے یہ منطق درست ہے، تو پھر میکرون ایران کے بارے میں یہ کیوں کہتے ہیں کہ تہران کے پاس نہ آج، نہ پانچ سال اور نہ ہی دس سال بعد جوہری ہتھیار ہونے چاہئیں۔ ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اصل سوال فرانس کے ایٹمی قوت ہونے پر نہیں، بلکہ اس دہرے معیار پر ہے جہاں فرانس کا ایٹمی پروگرام ‘دفاع’ قرار پاتا ہے جبکہ ایران کا عالمی نگرانی کے تابع پُرامن جوہری پروگرام اچانک ‘خطرہ’ قرار دے دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : ایرانی صدر کی ایس سی او سیکرٹری جنرل سے ملاقات

انہوں نے اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ بعض عالمی طاقتیں سب کے لیے یکساں امن نہیں چاہتیں، بلکہ وہ ‘خوف پیدا کرنے والی طاقت’ پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ بقائی کے مطابق، یہ طاقتیں خود تو جدید ترین ایٹمی ہتھیاروں سے لیس رہنا چاہتی ہیں لیکن جو ممالک صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا حصول چاہتے ہیں، ان پر غیر منصفانہ پابندیاں عائد کر کے دنیا میں ایک نام نہاد جوہری خطرے کا واویلا کھڑا کر دیتی ہیں۔

ایرانی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایسا امن، جس میں صرف چند جوہری طاقتیں اپنے ہتھیاروں کو سلامتی کی ضمانت سمجھیں اور دوسروں کے لیے اسی منطق کو خطرہ قرار دیں، وہ دراصل احساسِ برتری پر مبنی طاقت کی اجارہ داری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو عالمی نظام تمام ممالک کے سلامتی اور امن کے مساوی حق کو تسلیم نہیں کرتا، وہ حقیقی امن کے تحفظ کے بجائے صرف چند طاقتور ممالک کے تسلط اور غلبے کو فروغ دیتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top