یونان کے شہر تھیسالونیکی میں 15ویں صدی کی حمزہ بے مسجد بحالی کے بعد عوام کے لیے کھول دی گئی

تھیسالونیکی میں بحال شدہ حمزہ بے مسجد کی حوالگی کی تقریب

اسلام 24/7 : یونان کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں عثمانی دور کی تاریخی مسجد ‘حمزہ بے’ تقریباً چار دہائیوں تک لوہے کے سہاروں میں گھری رہنے کے بعد بحالی کا کام مکمل ہونے پر آج اتوار 11 اکتوبر سے عوام کے لیے کھول دی گئی ہے۔ تاہم یہ تاریخی عمارت اب عبادت گاہ کے بجائے نمائش گاہ اور ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال ہوگی۔

یونانی نیوز ویب سائٹ ‘ای مقدونیا’ کے مطابق ہفتے کی شام یونان کی وزیر ثقافت لینا مینڈونی کی موجودگی میں بحال شدہ عمارت کی حوالگی کی تقریب منعقد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسجد 1430 میں عثمانیوں کے ہاتھوں شہر کی فتح کے بعد تعمیر ہونے والی اولین مساجد میں سے ہے اور تھیسالونیکی کی اہم ترین عثمانی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں : نیشنل کونسل آف آرٹس میں معروف آرٹسٹ یوسف خان کی ’’قرآنی خطاطی اور پینٹنگز‘‘ کے عنوان سے سولو نمائش کا آغاز

بلغاریہ کی نیوز ویب سائٹ ‘فکتی’ کے مطابق بحالی کا کام مئی 2024 میں شروع ہوا اور 22 ماہ جاری رہا، جس کے لیے یورپی ریکوری فنڈ سے رقم فراہم کی گئی۔ یونانی حکام کے مطابق قریب ہی زیر زمین میٹرو اسٹیشن کی تعمیر سے علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح متاثر ہوئی جس کا اثر عمارت کی بنیادوں پر پڑا، اور یہ بحالی کے کام کا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا۔ عمارت کا انتظام اب شہر کا محکمہ آثار قدیمہ اور میوزیم ادارہ ‘موموس’ مشترکہ طور پر چلائیں گے، جبکہ پہلے دو ہفتے داخلہ مفت ہوگا۔

ایرانی قرآنی خبر رساں ایجنسی ‘ایکنا’ اور یونانی میڈیا کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 1467 میں عثمانی کمانڈر حمزہ بے کی بیٹی کے ایما پر شروع ہوئی تھی۔ آبادی کے تبادلے کے بعد اس کے احاطے میں ‘الکازار’ کے نام سے سینما قائم ہوا جو برسوں چلتا رہا، اور یہی نام شہر کی اجتماعی یادداشت میں عمارت کی پہچان بن گیا۔ یہ عمارت 1926 سے ایک تاریخی اور آثار قدیمہ کی یادگار کے طور پر قانونی تحفظ میں ہے۔

واضح رہے کہ حوالگی کی تقریب میں میوزیم ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ ماضی میں سامی بے نامی ایک شخصیت نے اس وقت کے یونانی رہنما الیفتھیریوس وینیزیلوس کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ حمزہ بے مسجد کو برقرار رکھا جائے تاکہ شہر کی مسلم برادری وہاں نماز ادا کر سکے۔ اب یہ عمارت بحال تو ہو گئی ہے، مگر اپنی اصل دینی حیثیت کے بجائے ایک ثقافتی یادگار کے طور پر شہر کی زندگی کا حصہ بنے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top