ایرانی صدر کی ایس سی او سیکرٹری جنرل سے ملاقات

مسعود پزشکیان

اسلام 24/7 : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ترکمانستان میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سیکرٹری جنرل سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انہوں نے کثیرالجہتی روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اب محض زبانی وعدوں اور مذاکرات تک محدود رہنے کے بجائے فیصلوں پر عملی درآمد کی طرف بڑھنا چاہیے۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس (BRICS) جیسے عالمی فورمز کا بنیادی مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سیاسی اور سلامتی کے شعبوں میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔

انہوں نے امریکی مداخلت اور اس کی یکطرفہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکا جیسے ملک کی پالیسیاں ان عالمی تنظیموں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں، تو یہ ادارے اپنی طاقت، یکجہتی اور افادیت کھو دیں گے۔ ایرانی صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ خطے کے بعض ممالک آج بھی اپنے پڑوسیوں کے بجائے دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے امریکا کی استعماری پالیسیوں اور دباؤ کے زیرِ اثر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کو دھونس یا زور زبردستی سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے اور دنیا کو اب یکطرفہ پسندی کے بجائے کثیرالجہتی (Multilateralism) کی جانب بڑھنا ہوگا۔

مزید پڑھیں : آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا، اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ نافذ

شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے صدر پزشکیان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے سربراہان کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بدقسمتی سے بعض رکن ممالک اجتماعی اور کثیرالجہتی مفادات کے بجائے اپنے انفرادی یا دوطرفہ تعلقات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جس سے تنظیم کی مجموعی پالیسیوں پر عمل درآمد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ان معاہدوں کی فہرست مرتب کی جائے گی جن پر اب تک عمل نہیں ہو سکا، تاکہ سفارتی سطح پر ان کی پیروی کی جا سکے۔

ملاقات کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام، ممالک کی علاقائی سالمیت کے احترام اور طاقت کے استعمال سے گریز کے اصولوں پر اتفاق کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا جائز اور مساوی حق حاصل ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی پابندی کرنا بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top