اسلام 24/7 : ایرانی فوج کی گراؤنڈ فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ دوسری جنگ کے آغاز پر ملکی سرحدوں کے دفاع اور دشمن کے خطرات سے نمٹنے کے لیے 50 سے زائد جنگی اور سپورٹ یونٹس کو سرحدوں پر تعینات کر دیا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ وسیع تعیناتی ملک کے شمال مغرب سے لے کر مغرب اور جنوب مغرب تک، نیز مشرق سے جنوب مشرق تک بشمول مکران کے ساحلوں تک کی گئی تھی۔
اس وسیع اور کٹھن فوجی آپریشن میں 90 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کا سڑک کا سفر طے کیا گیا، جس میں بھاری فوجی گاڑیوں کے ذریعے اسلحہ اور جنگی سازوسامان مطلوبہ مقامات تک بحفاظت پہنچایا گیا۔ واضح رہے کہ امریکا اور صیہونی حکومت نے جون 2025 میں ایران کے خلاف پہلی 12 روزہ جنگ چھیڑی تھی۔ اس کے بعد 28 فروری 2026 کو دوسری جارحیت کا آغاز کیا گیا جو 40 دن جاری رہنے کے بعد اپریل کے اوائل میں رکی۔ ان دونوں جنگوں میں ایران کی بھرپور مزاحمت اور مؤثر جوابی کارروائیوں نے حملہ آوروں کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔
مزید پڑھیں : امریکی یکطرفہ پسندی ناقابل قبول ہے، ایرانی صدر
جنرل جہانشاہی کا کہنا تھا کہ 40 روزہ جنگ میں گراؤنڈ فورس کی شاندار جنگی تیاری دراصل ان اقدامات کا نتیجہ تھی جو 12 روزہ جنگ کے بعد اٹھائے گئے تھے۔ ان میں آپریشنل منصوبوں پر نظرِثانی، جنگی فارمیشنز میں تبدیلیاں اور فوجی دستوں کو اسمارٹ، نیٹ ورک سے منسلک اور انتہائی درست نشانہ بنانے والے (پریسیژن اسٹرائیک) ہتھیاروں سے لیس کرنا شامل تھا۔
ملکی دفاع کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں انٹیلی جنس اور جاسوسی کی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں تاکہ دشمن فورسز کے ایرانی حدود میں داخل ہونے کے کسی بھی امکان کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کے طیاروں کے ممکنہ لینڈنگ کے مقامات، بشمول متروک ہوائی اڈوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مخصوص یونٹس بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، جبکہ فوج کو صورتحال کی مکمل انٹیلی جنس کوریج حاصل ہے۔
ایرانی کمانڈر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی ایشیا میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکی حکام کی جانب سے تہران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔ ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر کوئی بھی نئی جارحیت کی گئی تو پورے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور بحری اثاثوں کو براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔