متحدہ عرب امارات سے 17 ایرانی قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی سفارت کاری کی بڑی ناکامی

متحدہ عرب امارات

اسلام 24/7 : ایران کے ایک اعلیٰ عدالتی عہدیدار نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے 17 ایرانی قیدیوں کی رہائی اور ان کی وطن واپسی تہران کے خلاف اسرائیل کی مخالفانہ سفارت کاری اور اسے خطے میں تنہا کرنے کی ناکام کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔

انسانی حقوق اور بین الاقوامی امور کے لیے ایران کے نائب وزیر انصاف، عسکر جلالیان نے پیر کے روز بتایا کہ یو اے ای کی جیلوں سے 17 ایرانی شہریوں کو رہا کر کے وطن واپس لایا گیا ہے، جن میں 3 خواتین اور 14 مرد شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امارات میں قید دیگر ایرانیوں کی رہائی کے لیے بھی سفارتی اور قانونی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں : مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپے: صحافیوں اور بچوں سمیت متعدد شہری اغوا

قیدیوں کی منتقلی سے متعلق ایرانی کمیٹی کے سربراہ عسکر جلالیان نے اس بات پر زور دیا کہ 17 ایرانیوں کی رہائی کے معاملے میں اماراتی حکومت کا تعاون خطے میں صیہونی حکومت کی اس سفارت کاری کی شکست کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد ایران کو تنہا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایران اور یو اے ای کے درمیان اچھے ہمسایہ تعلقات اور خطے میں اس اصول کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے اعتراف کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان قیدیوں کی رہائی اور منتقلی ملک کے اندر قانونی، سیاسی اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ایران بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور یو اے ای کے درمیان مجرموں کی حوالگی اور قانونی معاونت کے معاہدے تو نافذ العمل ہو چکے ہیں، تاہم سزا یافتہ قیدیوں کی باقاعدہ منتقلی کے حتمی معاہدے پر دستخط ہونا ابھی باقی ہے۔

دوسری جانب، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی قیدیوں کی رہائی پر اماراتی حکام کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر قید ایرانیوں کو بھی جلد رہا کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت حالیہ سفارتی رابطوں کا نتیجہ ہے، اس سے قبل جولائی میں بھی یو اے ای کوسٹ گارڈز کے زیر حراست 55 ایرانی ماہی گیروں کو ابوظہبی میں ایرانی سفارت خانے کی کوششوں سے رہا کیا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top