اسلام 24/7 : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ غیر مجاز راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والا ایک سپر ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد اس میں زوردار دھماکہ ہوا اور بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق سپاہ کی بحریہ نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ اس سپر ٹینکر پر 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لدا ہوا تھا۔ بیان کے مطابق ٹینکر نے اپنے تمام پوزیشننگ اور ریڈار نظام بند کر دیے تھے اور دھوکہ دہی اور ’’اسمگلنگ کرنے والی دہشت گرد امریکی فوج‘‘ کی مدد سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز کے مشرق میں ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، ایرانی فوج کی بحریہ
سپاہ کی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا: ’’آبنائے ہرمز بند ہے؛ اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دہشت گرد امریکی فوج کی آگ میں جل جائیں، جس پر انہوں نے غلط طور پر بھروسہ کیا‘‘۔
بیان میں زور دیا گیا کہ ٹینکر کا اپنے ٹریکنگ آلات بند کرنا اور ایرانی حکام سے ہم آہنگی کے بجائے امریکی فوج کی حفاظت پر بھروسہ کرنا ہی اس تباہی کی براہ راست وجہ بنا۔ سپاہ کی بحریہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اس کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز ’’دہشت گرد امریکی فوج پر بھروسے کی آگ میں جلیں گے‘‘۔ یمنی ٹی وی ‘المسیرہ’ نے بھی سپاہ کے حوالے سے یہ خبر نشر کی۔
واضح رہے کہ یہ ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ بدھ کو سپاہ نے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والے 2,500 سے زائد کنٹینرز والے جہاز کے بارودی سرنگ سے ٹکرا کر ڈوبنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ جمعرات کو ایرانی فوج کی بحریہ نے بتایا تھا کہ ٹریکنگ نظام بند کر کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی۔