اسلام 24/7 : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ 2,500 سے زائد کنٹینرز لے جانے والا ایک جہاز بدھ کی صبح آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے سے آبنائے کے جنوبی پانیوں میں ڈوب گیا۔
خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق سپاہ کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ جہاز نے آبنائے سے گزرنے کے لیے غیر مجاز اور انتہائی خطرناک راستہ اختیار کیا تھا۔ دھماکے کے بعد اس میں شدید آگ لگ گئی اور وہ ڈوب گیا۔ بحریہ نے مقامی کشتیوں اور ماہی گیروں کو خبردار کیا کہ وہ علاقے سے گزرتے ہوئے پانی کی سطح پر تیرتے کنٹینرز سے ٹکرانے سے بچیں۔
مزید پڑھیں : آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری ناقابل تردید قانونی اور جغرافیائی حق ہے، جنرل رحیم صفوی
اس سے پہلے سپاہ کی بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عزمائی نے منگل کو اپنے پہلے ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ امریکی دعویٰ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ان کے کنٹرول میں ہے، لیکن یہ دعویٰ زمینی حقائق سے بہت دور ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، تو میدان میں آ کر دیکھ لیں کہ اس پر کس کا کنٹرول ہے‘‘۔
ایڈمرل عزمائی کے مطابق آبنائے پر ایران کا کنٹرول ’’سمارٹ کنٹرول‘‘ ہے اور گزرنے والے جہازوں کو اجازت لینا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا 13 ارب ڈالر کا طیارہ بردار جہاز آبنائے سے 700 سے 800 کلومیٹر دور ایک رن وے کی طرح کھڑا ہے کیونکہ وہ ایرانی جنگی طیاروں کی رینج میں آنے کی جرأت نہیں کرتا۔ ان کے بقول آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سپاہ کی بحریہ اور بحیرہ عمان ایرانی فوج کی بحریہ کے کنٹرول میں ہے۔
ادھر لبنانی ٹی وی ‘المنار’ کے مطابق عمانی وزارت خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کے ساتھ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، تاہم ان مفاہمتوں پر عمل درآمد ایران اور امریکا کے مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔ عمان نے کشیدگی میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے پائیدار امن کے لیے سفارتی راستہ جاری رکھنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں کئی آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی بحری محاصرہ ختم ہونے تک آبنائے پر اس کا کنٹرول برقرار رہے گا۔