آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا، اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ نافذ

آذربائیجان

اسلام 24/7 : آذربائیجان کی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے لباس سے متعلق نئے ضوابط منظور کر لیے ہیں، جن میں ‘سیکولرازم’ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب باحجاب طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روکنے پر ملک بھر میں پہلے ہی شدید تنازع جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو منظور ہونے والے اس قانون پر وزیراعظم علی اسدوف نے دستخط کیے ہیں۔

نئے ضوابط کے تحت اساتذہ کے لیے صاف ستھرا، سادہ اور پیشہ ورانہ لباس لازمی ہے۔ خواتین اساتذہ کو کوٹ کے ساتھ پتلون یا اسکرٹ پہننے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اسکرٹ کی لمبائی گھٹنوں تک یا اس سے نیچے ہونی چاہیے۔ اگرچہ ان ضوابط میں واضح طور پر حجاب پر پابندی کا ذکر نہیں ہے، لیکن ‘سیکولرازم’ کی شرط نے باحجاب خواتین اساتذہ کے مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر کے مطابق، بعض باحجاب اساتذہ کو بھی اسکولوں کے دروازوں سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : امریکی حکام کو ہمارے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف

واضح رہے کہ یہ پیش رفت 21 ستمبر 2026 کو طالب علموں کے لباس کے ضوابط میں کی گئی ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد حجاب کا تنازع طالبات سے بڑھ کر اب اساتذہ تک پھیل گیا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں باحجاب طالبات کو کلاسوں میں شرکت سے روک کر گھر بھیجنے کے خلاف ساتھی طلبہ نے شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا کر، تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر اپنی باحجاب ساتھیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

ان حالیہ واقعات نے آذربائیجان میں تعلیم کے حق اور مذہبی آزادی کی بحث کو مزید گرما دیا ہے۔ متعدد شہری تنظیموں، قانونی ماہرین اور عام شہریوں نے حجاب کی بنیاد پر طالبات اور اساتذہ کو تعلیم سے محروم کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ عوامی ردعمل میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ان پابندیوں سے قرہ باغ جنگ کے شہداء اور اپنے اعضا کھونے والے غازیوں کی بیٹیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ سول سوسائٹی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین میں درج بنیادی حقوق کا احترام کرے اور مذہبی آزادی کی بنیاد پر اسکولوں میں داخلے پر عائد اس غیر اعلانیہ پابندی کو فوری ختم کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top