اسلام 24/7 : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے لگاتار حملوں اور دباؤ کے باوجود ایران سفارت کاری کے راستے سے نہیں ہٹے گا اور مذاکرات کی میز نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے یہ دوٹوک مؤقف جمعرات کی شام ترکمانستان کے شہر ترکمان باشی میں منعقدہ ‘آزاد دواساز ریاستوں کی دولت مشترکہ’ (CIS) کے سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپر کے ماحولیاتی سمٹ کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران اختیار کیا۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم ایک طرف بات چیت بھی کر رہے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر جب بھی ہم امریکا سے بات کرتے ہیں، وہ فوراََ نئے حملے شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے مذاکرات کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے جس پر ہم نے اپنی ترامیم بھی پیش کر دی ہیں۔ حتمی شکل دینے کے بعد اس معاملے کو نمٹانے کے لیے متعلقہ ثالثوں کے ساتھ بیٹھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں : ایران کی دفاعی پیداوار میں 2.5 گنا اضافہ؛ مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار
ایرانی صدر نے یکطرفہ پسندی کی مخالفت پر روس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا بھر میں اپنی پالیسیاں مسلط کرنے اور غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ خطے اور دنیا کو اب کثیرالجہتی (Multilateralism) کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا مقصد تنازع کا خاتمہ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ ہے، لیکن امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس ملاقات میں مسعود پزشکیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان متعدد اسٹریٹجک پروگرام مشترک ہیں جو روز بروز مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنهای کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے موجودہ بحران کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پوتن کا کہنا تھا کہ ایران نے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں اور ماسکو اس بحران کے پرامن حل کے لیے تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔