اسلام 24/7 : ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے عرب نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن یمن کی حوثی فورسز کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کو بھرپور مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس عسکری معاونت میں جنگی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور طیاروں کو ایندھن کی فراہمی جیسے اہم ترین شعبے شامل ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، سعودی عرب اپنی فضائی حدود کے دفاع اور حوثی مخالف فورسز کی مدد کے لیے امریکی ‘ری فیولنگ’ (ایندھن فراہمی) کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 200 امریکی مشیر سعودی عرب کے پلاننگ سینٹرز میں موجود ہیں جو اہداف کے درست تعین اور مؤثر فوجی کارروائیوں کے لیے سعودی فورسز کی باقاعدہ رہنمائی کر رہے ہیں۔ تاہم، اس عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکی مشیر وہاں کسی مخصوص ہدف کا تعاقب نہیں کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں : آرمینیا کے وزیر خارجہ کا دورہ تہران: ایران کے ساتھ اسٹریٹجک اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ریاض کی فورسز اور ان کے حمایت یافتہ کرائے کے جنگجوؤں نے یمنی افواج کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے اخبار نے تصدیق کی ہے کہ 200 سے زائد امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تجزیہ کار اس وقت سعودی کمانڈ سینٹرز کے اندر موجود ہیں۔
یہ امریکی تجزیہ کار یمن کے اندر جنگی اہداف کا جائزہ لینے اور ان کے انتخاب میں سعودی حکومت کی تکنیکی معاونت کر رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے مزید انکشاف کیا ہے کہ امریکا فضائی گشت پر مامور سعودی جنگی طیاروں کو فضا میں ہی ایندھن (Mid-air refueling) بھی فراہم کر رہا ہے تاکہ ان کے آپریشنز بلا تعطل جاری رہ سکیں۔