ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایرانی ساحلی نگرانی مراکز پر فوجی حملے مفاہمتی یادداشت (MoU) کی “صریح خلاف ورزی” ہیں اور ایرانی مسلح افواج خود دفاع کے حق کے تحت جواب دے گی۔
وزارت نے بیان میں کہا کہ “دہشت گرد امریکی فوج نے 8 جولائی 2026ء کے ابتدائی گھنٹوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ساحل پر متعدد نگرانی مراکز پر فوجی جارحیت کی۔”
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے ایران-امریکہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، قالیباف
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے معاہدے کے مطابق فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی معاہدے کو “ختم” قرار دے دیا تھا اور تیل کی فروخت کی اجازت بھی منسوخ کر دی تھی۔
وزارت نے آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی، تیل پر پابندیاں، جنوبی ایران پر حملے اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کو معاہدے کی بنیادی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی میڈیا نے جنوبی ہرمزگان صوبے کے علاقے سیرک اور قشم جزیرے کے قریب دھماکوں کی اطلاع دی۔
سیرک پورٹ پر ایک فلوٹنگ pier کو شدید نقصان پہنچا اور ایک شخص زخمی ہوا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بتایا کہ مہشہر میں امریکی ڈرونز کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک اہلکار محمد رضا خوزینی شہید ہو گئے۔
وزارت خارجہ نے پڑوسی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جارح طاقتوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
ایرانی فوج نے “کچلنے والا جواب” دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔