امریکہ نے ایران-امریکہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، قالیباف

محمد باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا “دھونس اور بھتہ خوری کا دور” اب ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی، تیل پر پابندیاں دوبارہ لگانے، جنوبی ایران پر حملے اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی یہ خلاف ورزیاں ایران کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : عراق کے تمام طبقات نے شہید رہبرؒ کی تشییع میں شرکت کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا: شیخ قیس الخزعلی

قالیباف نے X پر لکھا کہ “امریکہ کی MoU کی بڑی خلاف ورزیاں: 1۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی، 2۔ تیل پر پابندیاں دوبارہ لگانا، 3۔ جنوبی ایران پر حملے، 4۔ لبنان میں صیہونی جارحیت جاری رکھنا۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ “دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا ہے۔ یہ کہیں لے کر نہیں جاتا۔ ہم جھکتے نہیں۔”

17 جولائی کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان 14 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا جس میں تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی اور 60 دن میں حتمی معاہدے کی بات چیت شامل تھی۔

قالیباف کے بیان کے بعد ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے علاقے سیرک اور قشم جزیرے کے قریب متعدد دھماکوں کی اطلاع دی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی 7 جولائی کو ایران کے خلاف 80 سے زائد اہداف پر حملوں کی تصدیق کی۔

ایرانی فوجی کمانڈ نے امریکہ کی تازہ جارحیت کا “کچلنے والا جواب” دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا اور کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔

Scroll to Top