ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کے سنگین نتائج ہوں گے۔
کاظم غریب آبادی نے ہفتہ کے روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ X پر لکھا کہ “آبادانائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے لیے فوجی نمائش کا میدان نہیں ہے۔”
انہوں نے فرانس اور برطانیہ کے مشترکہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، “ایران، جو اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا ذمہ دار اور ضامن ہے، اس حساس راستے میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے خبردار کرتا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں : قالیباف کا پاکستان کا شکریہ، رمضان جنگ میں حمایت کو سراہا
غریب آبادی نے زور دیا کہ “حرمز کی سلامتی ساحلی ممالک کی ذمہ داری ہے” اور کہا کہ “فتنہ انگیز عناصر اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ یہ ایک سنگین انتباہ ہے۔”
برطانوی وزیراعظم کی آفس نے جمعہ کے روز کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون کا مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کو “عالمی معیشت کی اہم شاہ رگ” قرار دیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ عمان نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے علاقائی پانیوں میں جہاز رانی کے خطرات سے نمٹنے پر اتفاق کیا ہے۔ لندن اور پیرس نے آبنائے ہرمز میں “آزاد جہاز رانی” کی حمایت کے لیے وسیع بین الاقوامی فوجی مشن بھیجنے کی تیاری کا بھی اعلان کیا۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا اسرائیل جارحیت کے جواب میں حرمز کو دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر دیا تھا اور بعد میں امریکا کی غیر قانونی ناکہ بندی کے خلاف مزید کنٹرول قائم کیا۔