ایران کی دفاعی پیداوار میں 2.5 گنا اضافہ؛ مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار

ایران

اسلام 24/7 : ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ جارحیت کے باوجود ملک کی مسلح افواج مکمل طور پر لیس اور جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کی پیداوار رکنے کے بجائے اس میں نمایاں اور تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی سازوسامان، اسلحے اور بلاتعطل سپلائی چین کے لحاظ سے ہماری افواج کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں، اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 40 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد کے سات مہینوں میں دفاعی پیداوار جنگ سے پہلے کے اسی عرصے کے مقابلے میں اڑھائی (2.5) گنا بڑھ چکی ہے۔ اس شاندار اضافے میں 9 ہزار نجی نالج بیسڈ کمپنیوں اور محفوظ متبادل پیداواری مراکز نے کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ اسٹریٹجک ذخائر کو کھپت کی سطح سے کہیں بلند رکھا گیا ہے۔

جنرل طلائی نیک نے سابق شہید وزیر دفاع، میجر جنرل عزیز نصیرزادہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک انتہائی قابل، وفادار اور متقی منتظم قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہید وزیر نے اپنے 18 ماہ کے دورِ وزارت میں نالج بیسڈ نیٹ ورک میں 35 فیصد اور پہلے ہی سال پیداواری صلاحیت میں 80 فیصد اضافہ کیا۔ وہ ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے آخری دم تک دفاعی امور میں مصروف رہے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

مزید پڑھیں : پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ

ترجمان کے مطابق، شہید نصیرزادہ کے قائم کردہ مضبوط بنیادوں کی بدولت ہی ایران نے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں غیر متناسب اور اقتصادی دفاعی اقدامات کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے میزائلوں اور ہتھیاروں کی لاگت، جدید امریکی ٹیکنالوجی اور صیہونی پشت پناہی سے لڑنے والے دشمن کے مقابلے میں 1 سے 50 گنا تک کم تھی۔

رمضان کی طویل جنگ (جو 12 روزہ تنازع سے ساڑھے تین گنا طویل تھی) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران کے مقامی ڈیفنس سسٹمز نے دشمن کے 20 گنا زیادہ ڈرونز تباہ کیے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کی بحری افواج پسپائی پر مجبور ہوئیں، اور خطے میں دہشت گردی اور جارحیت پھیلانے والوں کو مزید شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی کارخانوں میں میدانِ جنگ کے فیڈ بیک کو فوری طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ طویل محاذ آرائی کے لیے جنگی تیاری کو یقینی بنایا جا سکے اور دشمن کی شکست کے بعد اضافی پیداوار کو برآمد کیا جائے۔ وزارت دفاع کے ذیلی ادارے ‘اتکا’ (ATAKA) نے تیاریوں اور رسد کے لیے 20 ہزار ارب تومان کا بجٹ مختص کیا ہے، جب کہ اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے فنڈز میں بھی 45 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے انجینئر مہرداد اخلاقی کو نیا وزیر دفاع نامزد کرنے کی تصدیق کی، جو میزائل، ڈرونز اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے “ری کریشن اینڈ ایکسیلینس ہیڈ کوارٹر” کے قیام کا بھی اعلان کیا جس میں 5 خصوصی عملے اور 14 کمیٹیاں شامل ہوں گی، جبکہ نجی شعبے کے ساتھ دوہری ٹیکنالوجی کے 50 پراجیکٹس پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی، پاسداران انقلاب (IRGC) اور پولیس سمیت تمام سیکیورٹی ادارے متحد اور فاتح ہیں۔ دشمن کی جانب سے اقتصادی دباؤ کا ہتھکنڈا بھی یقینی طور پر ناکام ہوگا۔ آخر میں انہوں نے ایران کے پانچ شہید وزرائے دفاع کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ملکی سلامتی و رہبرِ انقلابِ اسلامی کے تئیں وزارت کی غیر متزلزل وفاداری کا اعادہ کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Scroll to Top