بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے ساتھ ہی طالبان سے منسلک پلیٹ فارم المِرصاد نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف بیانیہ تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک طرف بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون میں پیشرفت ہو رہی ہے، تو دوسری جانب افغان حلقوں میں ’سیکنڈ اسرائیل‘ جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے پاکستان کو افغان عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق المِرصاد کی تازہ مہم میں پاکستان کو خطے میں بدامنی کا معمار قرار دیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کا دہشتگردی اور سرحد پار حملوں سے متعلق ریکارڈ کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
رپورٹس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ جیسے جیسے بھارت کابل میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھا رہا ہے، ویسے ہی پاکستان کے خلاف بیانیہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں افغانستان کے اندر تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کو آپریشنل گنجائش ملنے کا ذکر بھی سامنے آ چکا ہے، جس سے سرحد پار حملوں پر تشویش مزید بڑھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں استحکام ایسے وقت میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے جب ایک جانب سفارتی روابط میں تبدیلیاں آئیں اور دوسری جانب سرحد پار دہشتگردی کے الزامات برقرار رہیں۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ علاقائی ممالک شفاف سفارت کاری اور سیکیورٹی تعاون کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔