کوئٹہ، شیعہ ہزارہ برادری کے تحفظ سے متعلق اجلاس، متعدد فیصلے

 کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ہزارہ کمیونٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی عبدالصمد گورگیج، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، ایس ایس پی آپریشن آصف خان، ایس پی سیکیورٹی پولیس نعیم اچکزئی، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن اور دیگر متعلقہ افسران کے علاوہ بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، شیعہ علماء کونسل، ہزارہ جرگہ، قومی مرکز، انجمن تاجران اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران کوئٹہ شہر میں امن و امان کی بہتری کے لیے سیکیورٹی پلان کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہزارہ کمیونٹی کے تعاون سے کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جبکہ شہر میں پولیس پٹرولنگ میں بھی مزید اضافہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کررہی ہیں۔

اس کے علاوہ متعلقہ روٹس پر موثر پٹرولنگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور امن و امان میں خلل ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے تعاون سے سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر اور فول پروف بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت نے اس موقع پر کہا کہ عوام کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں

۔ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کئے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں حالیہ واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ آخر میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونیوالے افراد کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

Scroll to Top