ہزاروں کشمیری خواتین اور مرد مختلف اضلاع میں قائم مراکز پر قطاروں میں کھڑے ہو کر ایران کی امداد کے لیے عطیات دے رہے ہیں۔ عوام میں اسلامی، ہندو اور سکھ سبھی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
تاہم بعض عطیہ دینے والوں کو حکومت کی جانب سے پوچھ تاچھ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاریخی اور ثقافتی روابط کی بنا پر کشمیری عوام ایران سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ فارسی زبان اور ادبی ورثے کی وجہ سے کشمیر کو ماضی میں ایرانِ صغیر بھی کہا جاتا رہا ہے۔ 17ویں صدی کے فارسی شاعر غنی کاشمیری کا تعلق بھی سری نگر سے تھا، اور آج تک کشمیر کی ادبی تواریخ فارسی میں محفوظ ہیں۔
کشمیری عوام نے سرکاری پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایران کی حمایت میں جلسے جلوس نکالے اور عطیات کی بڑی مہم چلائی، جس میں ایک گاؤں میں ایک دن میں ایک کروڑ روپے کے برابر عطیات اکٹھے کیے گئے۔ آغا مجتبیٰ، جو عطیات جمع کرنے والی انجمن سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ نقدی اور قیمتی اشیاء براہِ راست ایرانی سفارت خانے کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جا رہی ہیں۔
جموں و کشمیر کی کمزور معیشت کے باوجود عوام نے اپنی استطاعت کے مطابق ایران کے لیے عطیات دیے اور اپنی حمایت کا عملی مظاہرہ کیا، جس سے کشمیری عوام کی انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی بھائی چارے کا واضح تاثر ملتا ہے۔