تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
سانحہ ترلائی سے ہم نے کچھ سیکھا بھی یا نہیں؟ کہتے ہیں کہ جو شخص راستے کے کانٹوں کو نظر انداز کر دے، وہ اپنے ہی پیروں کو زخمی کر بیٹھتا ہے۔ ویسے یہ پوچھنے اور سوچنے میں حرج ہی کیا ہے کہ کیا خودکش حملہ آور کی کامیابی میں ترلائی مسجد کی انتظامیہ کی غفلت اور ریاستی سکیورٹی اداروں کی لاپرواہی کا کوئی حصہ نہیں۔؟
چلیں یہ سب بعد میں، پہلے سوشل پلیٹ فارم “ایکس” پر صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب کے بیان سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں: پاکستان عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات پر ممنون ہے۔ یہ پیغامات اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہے۔ ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ کوئی ایک ملک تنہاء دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں ہونے والے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب دہشت گرد گروہوں کو بیرونی مدد اور سہولت کاری حاصل ہو، تو اس کے نتائج معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
ہمارے محترم صدر مملکت صاحب کا یہ بیان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ترلائی کا یہ واقعہ گواہ ہے کہ گویا پاکستان میں عوام کی حفاظت کسی ادارے، تنظیم یا کمیٹی کی ذمہ داری ہی نہیں۔ اس سے بڑھ کر مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے سانحات کے بعد ہمیشہ سیاسی و مذہبی بیانات، وعدے اور حفاظتی کمیٹیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، لیکن عملی اقدامات اکثر ناقص رہتے ہیں۔
ہم صدرِ مملکت صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سانحہ ترلائی کے ذمہ داروں کے خلاف حقیقی کارروائی وہی ہے، جو غفلت کرنے والوں کے خلاف کی جائے، تاکہ عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ جو بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت میں غفلت برتے گا، اُسے سزا ملے گی۔
جنابِ صدر! ہم تو اِن مسائل کو زیادہ نہیں سمجھتے ، آپ ہی بتا دیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ خودکش حملہ آور کی کامیابی کا اصل سبب ترلائی مسجد کی انتظامیہ اور حکومت کے سکیورٹی اداروں کی کوتاہی اور غفلت ہے۔؟
جب سکیورٹی کے انتظامات ہی نہ ہوں، یعنی جو لوگ حفاظت، احتیاط اور ذمہ داری کے ٹھیکدار ہوں، جب وہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے موجود نہ ہوں تو عوام کا خون تو بہے گا۔
سرکاری انتظامیہ کی عدم موجودگی، مسجد انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی انتظامات کا فقدان، مشتبہ افراد کی شناخت کا انتظام نہ ہونا اور ہنگامی حالات کے لیے تیاری نہ ہونا، ایسے زخم ہیں، جو شہداء کے ورثاء کو ہمیشہ رلاتے رہیں گے۔
ہماری دانست میں کہیں پر بھی مسجد انتظامیہ کو سارا کام سرکاری انتظامیہ پر نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ جب اپنے گھر کا دروازہ اندر سے کھلا ہو تو باہر سے دروازہ بند رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ ترلائی میں حادثے کے روز ریاست کی طرف سے نمازیوں کی حفاظت اور خودکش کو روکنے کے انتظامات کا فقدان، انٹیلیجنس سہولیات کا نہ ہونا اور بروقت حفاظتی اقدامات کی غیر موجودگی جیسی نالائقی کسی سے چھپی نہیں۔ یہ سراسر غفلت ہے۔ یہی غفلت خاموش قاتل ہے اور اسی نے ان نمازیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔
جو اس غفلت کو دیکھ رہا ہے اور خاموش ہے، وہ بھی جرم میں شریک ہے۔ اگر مسجد انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری نبھاتے تو یہ قیمتی انسانی جانیں بچ سکتی تھیں۔
قارئین محترم! صدر مملکت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ “بعض ہمسایہ ممالک بدقسمتی سے دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف کارروائیوں کی اجازت دے کر اس جرم میں شریک ہیں۔
ان کی جانب سے مالی معاونت کے ساتھ دہشت گردوں کو تکنیکی اور عسکری وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔” صدر مملکت نے افغانستان کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں، جو نائن الیون کی طرح یا اس سے بھی بدتر ہیں۔ اس وقت بھی دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں اور اس کا انجام 11 ستمبر کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔ آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی معاونت کرکے پاکستان کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
آئیے اس موقع پر صدر مملکت سے ایک سوال بحیثیتِ پاکستانی ہم بھی پوچھ لیتے ہیں کہ کیا ہم صرف بیان بازی اور سیاسی و مذہبی جُملوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر پائیں گے۔؟ ہرگز نہیں! جب تک ہم اپنا گھر صاف نہیں کرتے اور اپنے اقدامات، اصلاحات اور ٹھوس عزم کے ساتھ دہشت گردوں سے نہیں نمٹتے تو ہمارا مُلک ہمیشہ اپنی ہمسایہ ریاستوں کی پراکسی وارفیئر کا شکار رہے گا۔
یہ بجا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف داخلی یا ملکی نوعیت کا نہیں، لیکن اس کا حل بھی صرف بیان بازی نہیں ہے۔ مانا کہ داخلی اصلاحات اور آپریشنل اقدامات جیسے کہ نیشنل ایکشن پلان، مدارس کی اصلاحات اور دہشت گرد مالی معاونت کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کا فقدان پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
کیا ہم نہیں جانتے کہ خودکش حملے صرف قانون کی طاقت سے نہیں روکے جا سکتے۔؟ قومیں اپنی بقاء کے لیے قوانین کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کی بھی محتاج ہیں۔
اس کے باوجود افسوس صد افسوس کہ ہم اپنے سکیورٹی اداروں کے اندر اسی شعور اور ذمہ داری میں اضافے کیلئے ہرگز کوشاں نہیں۔ ہماری عوام سے بھی یہ گزارش ہے کہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کی انتظامیہ کا فرض صرف مذہبی رسومات کی نگرانی تک محدود نہیں۔
جہاں انسان اپنی ذمہ داری بھول جائے، وہاں تقدیر بھی اُس کا ساتھ نہیں دیتی۔
انتظامیہ کی چھوٹی چھوٹی غفلتیں، جیسے مسجد میں داخلے کے مقام پر نگرانی کا فقدان، مشکوک افراد پر نظر نہ رکھنا، یا رش کے اوقات میں اضافی حفاظتی انتظامات نہ کرنا، حملہ آور کے لیے راہیں ہموار کرتی ہیں۔ کہیں پر بھی ایسی غفلت کو دیکھتے ہوئے مساجد و عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو بیدار کرنا ہر شہری کا اوّلین فریضہ ہے۔
سکیورٹی ادارے، جو ریاستی حفاظت کے علمبردار ہیں، اگر پیشگی اقدامات میں سستی دکھائیں تو دہشت گردانہ منصوبے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں کمزور ہونا دراصل کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کہیں اطلاعات کی غلط فراہمی، کبھی حساس مقامات کی نگرانی کا ناکافی ہونا اور بعض اوقات سکیورٹی اداروں کے عوام کے ساتھ رابطے میں خلا کا رہ جانا۔۔۔ یہ سب عوامل مل کر حملہ آور کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت اور بیداری سے قائم رہتا ہے۔
خودکش حملوں کا گہرائی سے جائزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف دہشت گردوں تک محدود نہیں۔ صرف وہی مُلک و شہر محفوظ ہوتا ہے، جس کے باسی اپنی خامیوں کو پہچان کر اُنہیں سدھارنے کی ہمت رکھتے ہوں۔
کہیں بھی، کسی بھی معبد، چاہے چرچ ہو، مسجد ہو، مندر ہو یا گوردوارہ، اُس کی انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی مشترکہ غفلت حملہ آور کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ہم کئی جانیں گنوا چکے ہیں، لیکن ابھی تک ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ بروقت اقدامات، واضح ذمہ داریوں کی تقسیم، اور موثر رابطہ کاری سے ان حملوں کو روکا جا سکتا ہے۔ بہرحال حساس مقامات پر غفلت، چاہے لاشعوری ہو یا شعوری، انسانی جانوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ترلائی میں بھی ہزاروں ممکنہ اقدامات، بروقت احتیاط اور ذمہ داری کے ذرائع موجود تھے، لیکن غفلت کی بدولت انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ دہشت گرد حملوں کے بعد صرف حملہ آور کو مورد الزام ٹھہرانا، جبکہ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا، ایک غیر عاقلانہ اور غیر منطقی رویہ ہے۔
انسان کا حقیقی امتحان دکھوں، پریشانیوں اور بحرانوں میں ہوتا ہے۔ اس بحران میں ہمارے لیے یہ درس موجود ہے کہ اس ملک میں منصوبہ بندی، ذمہ داری اور عملی اقدامات کے بغیر انسانی جانیں دوبارہ ضائع ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا اور معاشرتی اعتماد کی بنیادیں لرزتی رہیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ جہاں بیرونی دشمن سے ہے، وہیں ہماری اپنی کمزوریوں، غفلت اور بے عملی سے بھی ہے۔
سانحہ ترلائی کے خون میں نہائے شہداء اور زخمی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ رونے دھونے یا بے بسی میں بیٹھنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں چپ رہیں گے، وہاں خون بہتا رہے گا اور جہاں بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، وہاں قاتل اپنے قدم آگے ہی بڑھاتے رہیں گے۔
ہمیں اب اگلے سانحے کا انتظار کرنے کے بجائے قبل از وقت اپنے دفاع کیلئے مضبوط دیواریں کھڑی کرنی ہوں گی، تاکہ کسی نئے سانحے کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔
کیا سانحہ ترلائی نے ہمیں کچھ سکھایا، یا ہم پھر بھی اپنی آنکھیں بند کیے کانٹوں پر چل رہے ہیں۔؟ جہاں حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے والے غافل ہوں، وہاں خون کے دریا رُکنا محال ہیں۔ لہذا اربابِ دانش کے نزدیک جو ذمہ دار اپنی ذمہ داری کو بھول جائیں، وہ بھی شریکِ جُرم ہُوا کرتے ہیں۔
قارئین محترم! اب آپ خود سوچیں کہ کیا سانحہ ترلائی کے شریکِ جُرم حقیقی ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔؟ اگر آپ کا جواب نہیں ہے تو پھر ان سانحات کو تکرار ہونے سے روکنا بھی ممکن نہیں۔