بھارت اور اسرائیل کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اور اب ایک اہم انکشاف ہوا ہے کہ 1971 کی پاکستان بھارت جنگ میں اسرائیل نے انڈیا کی خفیہ مدد کی۔
بھارت میڈیا رپورٹس کے مطابق 1971 کے پاکستان بھارت جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کو خفیہ طور پر اہم عسکری سازوسامان فراہم کیا۔
اسرائیل کی جانب سے بھارت کے ساتھ یہ تعاون اس وقت کیا گیا جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم گولدا مئیر نے ایک اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنی کے ذریعے امداد فراہم کرنے میں مدد کی اور جاری تعاون کا وعدہ کیا۔
اسرائیل نے آزاد بنگلہ دیش کی تحریک کے لیے کام کرنے والی مکتی باہنی کو بھی امداد فراہم کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اندرا گاندھی کے پرنسپل سیکریٹری کی محفوظ کی گئی دستاویزات میں درج ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 1980 کی دہائی میں اسرائیل نے بھارت کو پاکستان کے کہوٹہ نیوکلیئر مرکز کو تباہ کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی تاکہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کیا جا سکے۔
اسرائیل نے اپنے فائٹر جیٹ کے لیے بھارتی فضائی حدود اور ایندھن کی سہولت طلب کی۔ تاہم یہ منصوبہ صرف پاکستان کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خوف اور امریکا کے دباؤ کے باعث ترک کر دیا گیا۔