امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کی دوسری لہر کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وینزویلا کی نائب صدر نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو پہلی لہر سے کہیں بڑا حملہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وینزویلا کو دوبارہ دھمکی دی اور دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس حملے کی دوسری لہر ہے جو پہلی لہر سے بہت بڑی ہے اور وینزویلا کی نائب صدر اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک مادورو کی نائب صدر وہ کام کریں گی جو ہم چاہتے ہیں، تب تک ہمیں وینزویلا میں اپنی فوجیں بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ہم کیوبا میں فوجی کارروائی نہیں چاہتے، کیونکہ وہاں کی حکومت خود بخود گر جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مادورو کی حمایت کرنے کے بعد بہت سے کیوبیائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ٹرمپ کی یہ دھمکی وینزویلا کی نائب صدر دلسی روڈریگز کی اس ٹیلی ویژن تقریر کے چند منٹ بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ہم صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اس بات پر زور دیا تھا کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔