جنگ نہیں، مذاکرات ہی حل: ایران کے مؤقف کو تقویت، ٹرمپ نے حملے کی تجویز رد کردی

اسلام 24/7 کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کی ترجیح تصادم نہیں بلکہ سفارتی حل ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات میں صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، جاری مذاکرات اور غزہ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں اسرائیلی وفد کے دیگر اراکین بھی شریک تھے۔

ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتکاری ہی مؤثر راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات جاری ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی تنازع کو جنگ کے بجائے مذاکرات سے حل کرنا خطے اور عالمی امن کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ماضی میں کشیدگی کے لمحات آئے، لیکن اب ترجیح یہ ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائیں۔ ان کے مطابق امریکا سفارتی راستے کو فوقیت دے رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے صہیونی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، تاہم ایران کے معاملے پر واضح مؤقف یہی ہے کہ مذاکرات اور باہمی احترام ہی پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

Scroll to Top