مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسرائیلی فوج Israel Defense Forces نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کے تقریباً آدھے میزائل کلسٹر وارہیڈز سے لیس تھے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس جدید اور متنوع میزائل صلاحیت موجود ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق کلسٹر وارہیڈ والے میزائل فضا میں پھٹ کر درجنوں چھوٹے بموں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جو بڑے علاقے میں پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ہی میزائل کئی مقامات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دفاعی نظام کے لیے چیلنج بڑھ جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی میزائل حکمتِ عملی کا مقصد اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام کو مصروف رکھنا اور مختلف اہداف پر بیک وقت دباؤ ڈالنا ہے۔ اسی وجہ سے ایران مختلف اقسام کے میزائل اور وارہیڈ استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق Iran نے گزشتہ برسوں میں اپنے میزائل پروگرام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے، جس کے باعث وہ خطے میں ایک اہم فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔
دوسری جانب Israel کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم بعض میزائل شہری علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔