نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں اس وقت غیر متوقع گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب ساحل عدیم اور علامہ حشام الٰہی ظہیر کے درمیان جاری مکالمہ اچانک تلخ رخ اختیار کرگیا۔ گفتگو کے دوران ساحل عدیم نے یہ کہہ کر ماحول کو چونکا دیا کہ ہمارے ایک عالم امریکہ کے سابق صدر Donald Trump کے ساتھ بیٹھ کر ناشتے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
اس پر علامہ حشام نے وضاحت دی کہ وہ ایک عالمی مذہبی کانفرنس میں مدعو تھے اور اسی تناظر میں شریک ہوئے، تاہم سوال یہ اٹھا کہ کیا ایسی متنازعہ سیاسی شخصیت کی تقریب میں شرکت کو صرف “دعوت” کہہ کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟
ناقدین کے مطابق اس معاملے پر علامہ حشام کے دلائل کمزور محسوس ہوئے اور وہ اس تاثر کو زائل نہ کرسکے کہ ایک ایسے رہنما کی موجودگی میں شرکت کی گئی جس کی پالیسیوں پر دنیا بھر میں شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔
پروگرام کے دوران گفتگو ذاتی جملوں تک جاپہنچی جس پر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔
کچھ صارفین نے رائے دی کہ مذہبی رہنماؤں کو عالمی سیاست میں شرکت سے پہلے امت کے جذبات اور بین الاقوامی تناظر کو مدنظر رکھنا چاہیے، جبکہ بعض نے کہا کہ بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کو محض سیاسی وابستگی قرار دینا بھی درست نہیں۔