آغا راحت حسین الحسینی کا بڑا اعلان! ماہ رمضان میں تراویح مولانا خلیل قاسمی امامیہ مسجد میں پڑھائیں

 دینی مشاورتی کونسل اور عمائدین اہلسنت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مولانا خلیل قاسمی کی قیادت میں اسلام آباد میں ترلائی مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کے افسوسناک دہشت گردی کے واقعے پر تعزیت اور تسلیت پیش کرنے کیلئے کے لیے مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت پہنچا۔

 قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی اور مرکزی انجمن امامیہ کابینہ کے اراکین نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر علاقائی، قومی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اہلسنت وفد نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں واقع ترلائی مسجد و امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

شرکاء نے اسے انسانیت سوز اور اسلام دشمن کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا دراصل ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازش ہے۔

شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

اجلاس میں مزید حالیہ دنوں تشکیل دیئے گئے نام نہاد “غزہ پیس آف بورڈ” پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور واضح کیا کہ جس فورم میں خود حماس کی نمائندگی نہیں، وہ غزہ کے مظلوموں کی آواز نہیں بن سکتا، اس حوالے سے حماس نے واضح کیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے کسی طور غیر مسلح نہیں ہونگے اور نہ ہی اپنی سرزمین کسی غیر کے حوالہ کرینگے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے ذریعے نہ صرف اسرائیل کا تحفظ چاہتا ہے بلکہ اس بورڈ کے ذریعے مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کا خواہش مند ہے اور یہ دونوں سازشیں مسلمانان پاکستان کو ہرگز قبول نہیں۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ فلسطینوں کے وسیع تر مفاد کی خاطر غزہ امن بورڈ سے باہر نکلے۔

اس موقع پر قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی کمزوری کی بڑی وجہ آپسی نفرت اور اشتعال انگیزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان باہمی احترام، برداشت اور مقدسات کا تحفظ ناگزیر ہے۔

جب تک ہم ایک دوسرے کے عقائد اور مقدسات کا احترام نہیں کریں گے، دشمن قوتیں ہمیں تقسیم کرتی رہیں گی۔

انہوں نے علماء و خطباء سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات اور بیانات میں اتحاد، اخوت اور امن کے پیغام کو فروغ دیں، تاکہ نوجوان نسل کو مثبت رہنمائی مل سکے۔

انہوں نے خلیل قاسمی کو مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت میں نماز ترویح پڑھنے کی پیش کش بھی کی، جسے وفد نے خوش آئند قرار دیا۔

مزید برآں، مرکزی انجمن امامیہ کی جانب سے آئندہ ماہ رمضان المبارک میں جمعۃ الوداع کے موقع پر یوم القدس کو مشترکہ طور پر منانے کی تجویز پیش کی گئی، جسے معززینِ اہلِ سنت نے خوش آئند قرار دیا اور باہمی اشتراک کے ساتھ اس پروگرام کو منانے کے عزم کا اظہار کیا۔

مستقبل میں بھی ایسے مشترکہ اجلاسوں اور مکالمے کے تسلسل پر اتفاق کیا گیا، تاکہ اتحاد و ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

آخر میں مولانا عطاء اللہ شہاب نے اس اجلاس کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ملاقات علاقے میں پائیدار امن اور دیرپا ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔

انہوں نے باقاعدہ دعوت دی کہ ملتِ تشیع کا ایک وفد ان کی جانب بھی تشریف لائے اور ان کا مہمان بنے، تاکہ باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے، غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور فرقہ وارانہ فضاء کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علمائے کرام کا مسلسل رابطہ، مثبت مکالمہ اور ایک دوسرے کے عقائد و مقدسات کا احترام ہی وہ مؤثر راستہ ہے، جس کے ذریعے علاقہ امن و امان، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

اس دعوت اور جذبہ خیرسگالی کو قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی اور انجمن امامیہ کے اراکین نے خلوصِ دل سے قبول کرتے ہوئے آئندہ روابط کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ کاوشوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن و استحکام اور ملی یکجہتی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور کسی بھی قسم کی انتشار انگیز یا استعماری سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا خلیل قاسمی نے کہا کہ گذشتہ دنوں ترلائی اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں جو اندوہناک دشتگردی ہوئی، اس پر ہم لواحقین سے اظہار ہمدردی، تعزیت اور امن کا پیغام لیے ہم یہاں امامیہ مسجد آئے تھے۔ ایسی قتل و غارت گری استعمار کی ہی سازش ہے۔

فرقہ واریت کے پیچھے استعمار ہی ہے۔ ہم وحدت کے اندر رہ کر ہی اغیار کی سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

Scroll to Top