جنگ کے باوجود پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں 400 فیصد اضافہ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کو ایک مہینے سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس دوران ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں کرنسی ایکسچینج کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 پاکستانی روپے میں مل جاتے تھے تاہم اب ایک کروڑ ایرانی ریال کی قدر 10 ہزار روپے کے برابر ہو چکی ہے۔

 ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق  اس کی سب سے بڑی وجہ قیاس آرائیاں ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد ایران کے اوپر عائد پابندیوں بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بنیاد پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ پابندیاں ہٹنے سے ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو گا اس لیے لوگ مستقبل کے لیے اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس وصول کرنے کا اقدام بھی ایرانی کرنسی کی مضبوطی کا باعث بنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی ریال اور چینی یوآن میں ٹول ادا کرنے کا کہا ہے جس کا ایرانی کرنسی پر مثبت پڑا ہے اور اس کی قدر میں کافی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Scroll to Top