دفتر خارجہ کا مضحکہ خیز بیان! بورڈ آف پیس‘‘ میں اسرائیل یا نیتن یاہو کی موجودگی سے کوئی پریشانی نہیں

 پاکستان کو امریکی صدر کے ’بورڈ آف پیس‘ میں اسرائیل یا اس کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں ہونے والی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس معاملے پر پاکستان کا واضح موقف پیش کیا۔

 دفتر خارجہ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کسی ملک (اسرائیل) یا اس کے وزیر اعظم (نیتن یاہو) کا نام لیے بغیر اپنا موقف برقرار رکھا کہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں کسی ایک ملک یا دوسرے ملک کی شرکت ہمارا براہِ راست مسئلہ یا سروکار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم نے امن بورڈ میں ایک خاص مقصد کے لیے شمولیت اختیار کی ہے، یعنی غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کا طویل المدتی حل۔ اس لیے ہم اسی طریقہ کار کو آگے بھی جاری رکھیں گے اور کسی ایک ملک یا دوسرے ملک کی شرکت سے پریشان نہیں ہوں گے۔

‘‘ ان کا مزید کہنا تھا’’ہماری توقعات زندہ ہیں، جیسا کہ ہم نے کہا،’بورڈ آف پیس ‘امید کی ایک کرن پیش کرتا ہے۔ لہٰذا، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بورڈ اپنی توقعات پر پورا اترے گا .

فلسطین کے عوام، خاص طور پر غزہ میں موجود لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد کرے گا، امن، خوشحالی، ترقی اور فلسطینی مسئلے کے پائیدار حل کی طرف راستہ فراہم کرے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جہاں تک بین الاقوامی سیکورٹی امدادی فورس کا تعلق ہے، بین الاقوامی استحکام فورس کے مینڈیٹ کے دائرہ کار پر ایک فیصلہ کا انتظار ہے، اور اس وقت تک ہم اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ہم نے اپنی سرخ لکیر واضح طور پر متعین کر دی ہے۔ پاکستان امن قائم رکھنے کے مینڈیٹ کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن ہم کسی بھی ہتھیار ختم کرنے یا غیر فوجی بنانے کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

Scroll to Top