خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے عراق اور قطر میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
رائٹرز نے ایکسئیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے قطر میں امریکی اڈوں کی جانب 6 میزائل داغے ہیں۔
اس سے قبل ایکسئیوس نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ ایران ان اڈوں پر میزائل داغنے کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے قطر کے علاوہ عراق میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق مغربی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ دوحہ کے نواح میں واقع العدید (Al-Udeid) بیس کو ایک ’ قابلِ یقین خطرے’ کا سامنا ہے۔
یہ بیس امریکی سینٹکام (CENTCOM) کا صدر دفتر ہے، اور برطانوی فوجی اہلکار بھی یہاں باری باری خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم، حالیہ ہفتوں میں متعدد طیارے اس بیس سے منتقل کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق بحرین میں بھی سائرن بج رہے ہیں اور اطر میں العدید بیس پر حملے کے بعد عراق میں امریکی اڈوں پر موجود فوجی اہلکار پناہ گاہوں میں چلے گئے ہیں۔
قبل ازیں اپنی رپورٹ میں ’اے ایف پی‘ نے آگاہ کیا تھا کہ قطر نے عارضی طور پر ملک بھر میں فضائی ٹریفک معطل کر دی ہے، جب کہ کچھ مغربی سفارت خانوں نے وہاں موجود اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے، یہ اقدام ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں جوہری تنصیبات پر ممکنہ ردعمل کی دھمکی کے بعد کیا گیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ متعلقہ حکام ملک کی فضائی حدود میں ہوائی ٹریفک کی عارضی معطلی کا اعلان کرتے ہیں، جو کہ خطے کی صورتحال میں پیش رفت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر کی جا رہی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ حکام علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل، قطر میں امریکی سفارت خانے نے وہاں موجود امریکی شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا، اور دیگر مغربی سفارت خانوں نے بھی یہی انتباہ جاری کیا۔