روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ تنازع کے نتائج کی درست پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔ ایران جنگ کے نتائج اُتنے ہی سنگین ہو سکتے ہیں جتنے کورونا وبا کے تھے۔
جمعرات کو ماسکو میں تاجر رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ جو تنازع میں شامل ہیں وہ خود بھی نتیجہ پوری طرح نہیں بتاسکتے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران جنگ کے نتائج اُتنے ہی سنگین ہوسکتے ہیں جتنے کورونا وبا کے تھے۔ کورونا وبا سے تمام خطوں اور براعظموں کی ترقی سُست ہوگئی تھی، تنازع سے بین الاقوامی لاجسٹکس، پروڈکشن اور سپلائی چینز کو نمایاں نقصان ہو رہا ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ اس نقصان سے ہائیڈروکاربن، دھاتوں اور کھاد کی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ روس کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور متحد ہونا ہوگا۔
روس کے صدر نے 2014 میں کریمیا کے روس میں الحاق اور 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مواقع پر روس کے خلاف غیر قانونی پابندیاں عائد کی گئیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عائد کی گئیں، اس لیے یہ غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران بین الاقوامی رسد، پیداوار اور سپلائی چینز کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے سے ہائیڈرو کاربن، دھاتوں، کھادوں اور دیگر بہت سے سامان کی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں۔۔