علامہ سید ساجد علی نقوی نے پاکستان کی جانب سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی کی وحشیانہ جارحیت کے تدارک، اسلامی ممالک کے مابین مسائل کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ادا کیے جانے والے کردار کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ جبکہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے واقعے کے بعد پاکستان میں پیدا شدہ صورتحال پر اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے موجودہ ملکی صورتحال پر اسلام آباد میں منعقدہ شیعہ علما کونسل پاکستان کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے رفقا کی شہادتیں دور حاضر کا عظیم سانحہ ہے جس پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر وحشانہ جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان شہادتوں کے تناظر میں پاکستان میں احتجاج، غمزدہ عوام کا جائز حق تھا تاہم ان مظاہروں میں پرتشدد اور املاک کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسیروں کو خیر سگالی کے جذبے کے تحت مقدمات ختم کر کے فی الفور رہا کرے۔
انہوں نے حکومت پاکستان کی متوازن اور سفارتی پالیسی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس پالیسی کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی وحشیانہ جارحیت کو روکنے، ایران اور سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک میں مسائل کے حل اور خطے میں بیرونی جنگ کے چھائے بادلوں کو چھٹنے دینے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ رہبر معظم کی شہادت جہاں رنج و غم کا سبب ہے وہیں اس عظیم قربانی سے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں مذہبی و سیاسی اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہوئی ہے اس لیے جذبات سے بالاتر ہو کر وطن عزیز پاکستان کی بقا و ترقی کے لیے قومی ذمہ داری، مذہبی ہم آہنگی اور یگانگت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور مابین تنا ختم کر باہمی تعاون کو فروغ دیا جانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہم انصاف پر مبنی پالیسیوں کے قائل ہیں ملک کسی بھی محاذ آرارئی کا متحمل نہیں لہذا یکجہتی اور ہم آہنگی سے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔
انہوں نے ایران پر مسلط کردہ موجودہ جنگ کو ایران کی آزادی، استقلال اور دنیا کی مظلوم عوام بالخصوص مظلوم فلسطین کے حقوق کے حصول اور قدس کی جنگ قرار دیا جو دنیا بھر کی مظلوم عوام کو سامراجیت کے شکنجے سے آزاد کرانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
اس موقع پر اجلاس میں شیعہ علما کونسل پاکستان کی مجلس عاملہ کے اراکین نے متفقہ طور پر یہ بات زور کر کہی کہ وطن عزیز پاکستان ہماری شناخت اور ہماری عزت و وقار ہے جس کی حفاظت ہمارا فرض اور ملک خداداد میں بدامنی کا خاتمہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
قائد محترم نے اجلاس کے آغاز پر رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے رفقا سمیت پاکستان کے شہدا کے لیے بھی فاتحہ خوانی، جبکہ اجلاس کے آخر میں پاکستان کی سلامتی، استحکام اور اتحاد کے لیے دعا فرمائی۔
اجلاس میں شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، مرکزی نائب صدور علامہ عارف حسین واحدی، علامہ موسیٰ رضا جسکانی، سید محمود بخاری، علامہ مظہر عباس علوی، علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ اکبر زاہدی، سید حسنین مہدی، ڈپٹی سیکرٹریز جنرل علامہ اسد رضا نعیمی، مظفر علی آخونزادہ، محمد علی قائد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، ڈپٹی سیکرٹریز اطلاعات منور عباس ساجدی، سید الطاف حسین کاظمی، مرکزی ناظم شعبہ تبلیغات علامہ سید اظہر عباس شیرازی، صوبائی صدور علامہ سید اشتیاق حسین کاظمی، علامہ سید اسد اقبال زیدی، علامہ شیخ مرزا علی، سید ساجد حسین نقوی، علامہ سید عامر عباس ہمدانی، وسیم اظہر ترابی، علامہ صادق علی نقوی، مولانا مشتاق عمرانی، صوبائی جنرل سیکرٹری سید صفی شیرازی اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید فتح رضوی شامل تھے۔