ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ تنازع ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصانات کی ابتدائی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں، جن کے مطابق اب تک ہونے والا مالی نقصان 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
ان اعداد و شمار میں طیاروں کی اصل قیمت شامل ہے جبکہ ان کی جگہ نئے طیارے لانے کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کے دوران چار ایف ففٹین ای اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک ایران کے اوپر گرایا گیا جبکہ تین کویت کی حدود میں غلطی سے اپنے ہی دفاعی نظام کا نشانہ بن گئے۔
اس فضائی جنگ میں امریکی فوج کے دیگر اہم طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک اے ٹین وارتھوگ طیارہ اس وقت مار گرایا گیا جب وہ امدادی کارروائیوں میں مصروف دستوں کو فضائی تحفظ فراہم کر رہا تھا۔
اسی طرح امریکا کا سب سے جدید ترین اور مہنگا ترین طیارہ ایف تھرٹی فائیو بھی ایرانی میزائل کی زد میں آکر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی بڑے نقصانات کی اطلاع ہے جہاں ایک امریکی ای تھری سینٹری طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوا، جو کہ فضائی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ایک انتہائی اہم اثاثہ مانا جاتا ہے۔